مسجد میں گفتگو

سوال:

مسجد میں باہمی گفتگو کرنے کا دین میں کیا حکم ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ مسجد میں بات چیت کرنا منع ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ کے ایک ارشاد کے مطابق مسجد میں کلام کرنے سے آدمی کی نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ تحقیق کی رو سے کیا مسجد میں گفتگو کے بارے ممانعت کا یہ شرعی حکم درست ہے ؟ کیا واقعتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مذمت فرمائی ہے ؟


جواب:

مسلمانوں میں تعمیرِ مساجد کی سنت کا مقصد اصلاً اللہ کی عبادت ہے ۔ ذرا دقت نظر سے دیکھا جائے تو مساجد اصلاً پانچ وقت کی لازمی نمازوں کی جماعت،نمازِ جمعہ وعیدین اور اعتکاف کی عبادت کے لیے قائم کی جاتی ہیں،تاہم ثانوی طور پر اِن میں تطوع نمازوں کا ادا کرنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا،دین کی تعلیم وتعلم کا اہتمام کرنا،غرضیکہ اللہ کی بندگی کی طرف لے جانے والے ہر عملِ خیر کا مسجد میں ہونا پسندیدہ اُمور میں سے ہے ۔ جہاں تک مساجد میں لوگوں کی باہمی بات چیت اور گفتگو کرنے کا تعلق ہے تو اِس کا حکم مندرجہ ذیل نکات سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے :

1 ۔ مسجد کی حیثیت چونکہ ایک اجتماعی معبد کی ہے ۔ اس لیے اِس میں کسی بھی قسم کی باہمی گفتگو ایسے انداز،آواز اور لب لہجے میں کرنا جو حاضرینِ مسجد کی عبادت میں خلل پیدا کرے یا اُن کے خشوع وخضوع کو مجروح کرے یا اُن کے لیے تشویش کا باعث بن جائے؛ قطعاً مناسب نہیں ہے ۔اِس طرح کی بات چیت سے بہرحال اجتناب کرنا چاہیے ۔

2 ۔ ہر وہ گفتگو جو مسجد کی حدود سے باہر ناجائز ہے ،وہ مسجد میں بطریق اُولٰی ممنوع ہے ۔

3 ۔ ملاقات کے موقع پر دعا وسلام کرنا ، ایک دوسرے کے احوال پوچھنا اور دینی یا دنیوی امور پر کچھ گفتگوکر لینا جس طرح باہر مباح ہے،مسجد کے اندر بھی مباح ہیں ۔ اِن کی حرمت یا کراہت پر قرآن وحدیث میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔ تاہم مسجد چونکہ اللہ کی عبادت کا گھر ہے ، اِس لیے اُس میں گفتگو کرتے ہوئے دو اُمور کی رعایت اور اُن پر تنبہ ضروری ہے :

ایک یہ کہ گفتگو ایسی ہو کہ آواز اور لب ولہجہ سے حاضرینِ مسجد کے لیے کوئی خلل پیدا نہ ہو ۔ دوسرے یہ کہ مباح اُمور پر کلام کرتے ہوئے بھی مسجد کی حیثیت ،مقصد اور اس کی روح کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہوئے کثرت کلام سے اجتناب کیا جائے ۔

4 ۔ مسجد میں خرید وفروخت اور کاروباری نوعیت کی بات چیت کرنا،کھیل اور تفریح پر گفتگو کرنا ، باہر کوئی چیز کھو گئی ہو تو مسجد کے اندر آکر حاضرین کے سامنے اُس کا اعلان کرنا،شعر وشاعری کی مجلس لگانا؛یہ تمام اقسامِ کلام مَعابد کی روح کے صریح منافی ہونے کی بنا پرمسجد کے احاطے میں قطعاً مناسب نہیں ہیں ۔ چنانچہ اِن سے بہرصورت احتراز کیا جائے ۔

بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید وفروخت کرنے،کھوئی ہوئی چیز کا اعلان کرنے اور شعر وشاعری کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ (مسند احمد،رقم:6676 ۔ صحیح ابی داود،امام البانی،رقم :1079)

جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اُس حدیث کا تعلق ہے جس کی طرف سائل نے اشارہ کیا ہے کہ "مسجد میں بات چیت کرنا آدمی کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح چوپائے گھاس کو یا آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے "؛ یہ ایک بے بنیاد اور ناقابل التفات روایت ہے ۔ علمِ روایت کی رو سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اس حدیث کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ظاہر ہے کہ جب اِس کا استناد ہی آپ سے ثابت نہیں ہے تو علم کی دنیا میں اِس سے اخذ کیے جانے والے حکم کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی ۔ اس روایت کے بارے میں یہی رائے امام ناصر الدین البانی نے پیش کی ہے ۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ،امام البانی،رقم:4) ۔امام سبکی کے بقول بھی اُنہیں اِس کی کوئی سند نہیں مل سکی ۔ (طبقات الشافعية الكبرٰى : 294/6) ۔ ملا علی قاری نے بھی اِسے "موضوعات" یعنی من گھڑت روایات میں شمار کیا ہے ۔ (المصنوع في معرفة الحديث الموضوع : ص 92)

یہ روایت اپنے متن کے لحاظ سے بھی کسی طرح قابل قبول نہیں ہے ۔ کیونکہ اِس کے بالکل برعکس صحیح مسلم میں حضرت جابر بن سَمُرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مستند روایت میں نقل ہوا ہے کہ فجر کی نماز پڑھانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے ۔ پھر سورج کے طلوع ہوجانے کے بعد جب آپ اُٹھتے تو اپنے صحابہ کو دور جاہیلت کی باتوں میں محو ِگفتگو اور ہنستے ہوئے پاتے تو اُس موقع پر آپ بھی مسکراتے ۔ (مسلم ، رقم : 670)


1 . مسند الإمام أحمد بن حنبل . المحقق : شعيب الأرنؤوط وآخرون . الناشر : مؤسسة الرسالة .الطبعة : الثانية 1420هـ ، 1999م ۔

2 . صحيح سنن أبي داود . المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني- الناشر: مكتب التربية العربي لدول الخليج- الطبعة: الأولى- سنةالطبع:1409هـ .

3 . سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة . المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني - الناشر: مكتبة المعارف - الطبعة: الأولى - سنة الطبع: متعددة ۔

4 . طبقات الشافعية الكبرى . المؤلف: عبدالوهاب بن علي السبكي) - المحقق: عبد الفتاح محمد الحلو و محمود الطناحي .الناشر: مكتبة ابن تيمية - الطبعة: الأولى - سنة الطبع : 1388هـ۔

5 . المصنوع في معرفة الحديث الموضوع . القاري على بن سلطان الهروي . المحقق : عبد الفتاح أبو غدة . الناشر : مكتب المطبوعات الإسلامية ۔

6 . صحيح مسلم . مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري النيسابوري . الناشر : دار إحياء التراث العربي – بيروت ۔

answered by: Amir Gazdar

About the Author

Answered by this author