میت کے موقع کےشرعی احکام

سوال:

میت کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا اور شریعت کی کیا ہدایات ہیں ، بیان کر دیجیے ؟


جواب:

میت کے موقع پر جو شرعی احکام کیامقررکیے گئے ہیں ان کی تفصیل استاذگرامی جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب میزان کے باب رسوم وآداب میں اس طرح کی ہے:

" میت کاغسل

یہ بھی انبیا علیہم السلام کے سنن میں سے ہے ۔اس کاتقاضہ اگرچہ بدن پراچھی طرح پانی بہادینے ہی سے پورا ہوجاتا ہے ، لیکن دین میں تزکیہ وتطہیرکی جواہمیت ہے ، اس کے پیش نظرمیت کو، جس حدتک ممکن ہو، پورے اہتمام کے ساتھ غسل دیناچاہیے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پرجوہدایت اس کے لیے دی ہیں ، وہ یہ ہیں :

’اس(بچی)کوتین مرتبہ یاپانچ مرتبہ یا اگرمناسب سمجھوتواس سے بھی زیادہ مرتبہ پانی اوربیری کے پتوں کے ساتھ غسل دواورآخری مرتبہ کے غسل میں کافور یافرمایاکہ کچھ کافوربھی پانی میں شامل کر لو۔‘

(بخاری، رقم1285)

’اس(بچی)کوطاق عددمیں غسل دو:تین یاپانچ یاسات مرتبہ اوردائیں سے شروع کرواوران اعضاسے جن پروضوکیا جاتا ہے ۔‘ ، (بخاری، رقم1254)

تجہیزوتکفین

غسل کے بعدمیت کوکفن دینابھی دین ابراہیمی کی سنت ہے ۔یہ اگرچہ کپڑ ے کی ایک چادربھی ہو سکتی ہے جواسے پہنادی جائے ، لیکن میت کے ا کرام کاتقاضہ ہے کہ اس میں بھی اہتمام کاطریقہ اختیارکیاجائے ۔ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوسوتی کپڑ ے کی تین یمنی چادروں کاکفن پہنایا گیاجن میں کوئی قمیص یاعمامہ نہیں تھا۔ آپ کا ارشادہے :

’تم میں سے کوئی اپنے بھائی کوکفن دے تواسے اچھاکفن دیناچاہیے۔‘ ، (مسلم، رقم2185)

تدفین

میت کواس کی منزل مقصودتک پہنچانے کے لیے انبیا علیہم السلام کے دین میں اسے زمین میں قبربنا کر دفن کیا جاتا ہے۔ اس کاکوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کیا گیا۔ سیدھاگڑ ھاکھودکراس پرچھت ڈال دی جائے ، اس کے پہلومیں شگاف بنا کر مردے کواس میں لٹادیا جائے یاتابوت میں ڈال کوسپردخاک کیاجائے ، یہ سب طریقے اختیارکیے جا سکتے ہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ، البتہ قبرپختہ بنانے ، اس پرکوئی عمارت تعمیرکرنے یا اس پرکچھ لکھنے کوپسندنہیں فرمایا۔بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ تدفین کے موقع پرآپ نے سرہانے کی طرف سے تین مرتبہ قبرپرمٹی ڈالی۔یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ میت کوقبرمیں اتارتے وقت آپ فرماتے تھے :’بسم الله وعلی سنة رسول الله‘۔احمدبن حنبل کی روایت ہے کہ یہی بات آپ نے اس موقع پر دوسروں کوبھی کہنے کی ہدایت فرمائی۔تدفین کے بعدمیت کے لیے دعاکی ہدایت بھی روایتوں میں بیان ہوئی ہے ۔ارشادفرمایا ہے :

’اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرواورثابت قدمی کی درخواست کرو، اس لیے کہ اب اس سے پوچھاجائے گا۔‘ (ابوداؤد، رقم3221) "

(میزان:646۔648)

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author