میت پر اظہارِ غم کے حدود

سوال:

کسی انسان کے مرنے پر جو اظہارِ غم کیا جاتا ہے ، اسلام کے مطابق اس کے کیا حدود ہیں؟


جواب:

موت انسانی زندگی کی سب سے بڑ ی لیکن ایک تلخ حقیقت ہے۔ اس لیے جب کبھی انسانوں کا اس سے سامنا ہوتا ہے تو مرنے والے کے لواحقین اور اس کے رشتہ داروں کا غمگین ہونا اور رونا فطری عمل ہے۔ لیکن یہ فطری غم جب نوحے میں تبدیل ہوجائے اور خواتین باقاعدہ بین کرنے لگیں تو یہ چیز فطری حدود سے تجاوز کرجاتی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں اور آج بھی بہت سے مقامات پر مرنے والوں کے لیے بین کرنا ایک باقاعدہ رسم ہے۔ یہ بین اور نوحے عقل ، مذہب اور فطرت ، ہر اعتبار سے قابل مذمت چیز ہیں ، کیونکہ یہ خدا کی ا سکیم ، صبر کے جذبے اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ میں جہاں اور معاملات سے متعلق رہنمائی ملتی ہے وہیں اس معاملہ میں بھی ایک معتدل اور فطری رویہ سامنے آتا ہے۔ چناچہ مشہور واقعہ ہے کہ حضور کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات کے وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہے ، لیکن یہ فطری غم ایک حد سے آگے متجاوز نہیں ہوا۔ یہ پورا واقعہ روایت میں اس طرح بیان ہوا ہے:


''انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو سیف لوہار کے پاس گئے۔ وہ ابراہیم (حضور کے صاحبزادے )کی دایہ کا شوہر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم کو اٹھایا ، پھر بوسہ لیا اور سونگھا۔ پھر ہم جب بعد میں دوبارہ اس کے پاس گئے جبکہ ابراہیم حالت نزاع میں تھا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ عبدالرحمن بن عوف نے کہا: اے اللہ کے رسول ، آپ بھی روتے ہیں۔ فرمایا: اے ابن عوف یہ رحمت ہے۔ پھراس کے بعد روئے اور فرمایا: آنکھ آنسو بہا تی ہے ، دل غمگین ہے مگراس کے باوجود ہم وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو۔ اور ہم اے ابراہیم تیری جدائی کے سبب غمگین ہیں۔'' (متفق علیہ بحوالہ مشکوٰۃ: 1722)


موت پر غم اور رونے کو ایک فطری جذبہ قرار دینے کے باجود آپ نے موت پر کیے جانے والے نوحے اور بین کی سختی کے ساتھ مذمت کی ہے:


''عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو اپنے رخسار پیٹے ، گریبان پھاڑ ے اور جاہلیت کا پکارنا پکارے۔'' (متفق علیہ بحوالہ مشکوٰۃ: 1725)


ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بے ہوش ہوگئے۔ ان کی بیوی ام عبداللہ چلا کر رونے لگیں۔ وہ جب ہوش میں آئے تو کہا تو جانتی نہیں اور پھر ان کے سامنے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے بری ہوں جو سر کے بال منڈاوائے ، چلا کر روئے اور کپڑ ے پھاڑ ے۔'' (متفق علیہ بحوال مشکوٰۃ: 1726)

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author