مذہب اور سیاست

سوال:

کسی معاشرے میں مذہب اور سیاست کے درمیان تعلق کیا اہمیت رکھتا ہے؟ بالخصوص پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔کیا اپنے داخلی اور خارجی مسائل کے حل پانے کے لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم مذہب اور سیاست کو ساتھ ساتھ لے کر چلیں؟ کیا قرآن ایسے کسی تعلق کی تائید کرتا ہے ؟


جواب:

ہمارے ہاں مذہب اور سیاست کے تعلق کے حوالے سے اکثر بحث کی جاتی ہے ۔ جبکہ ہمارے نزدیک معاملہ مذہب اور سیاست کے تعلق کا نہیں ، بلکہ اس بات کو سمجھنے کا ہے کہ اسلام کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے ۔دیکھیے مذہب اسلام اس دنیامیں انسانوں کی ہدایت کے لیے پروردگار عالم کی عطا کردہ ہدایت کا نام ہے ۔اسلام کی یہ ہدایت زندگی کے ہر اس پہلو اور موقع کے حوالے سے دی گئی ہے جہاں انسانوں کے غلطی کرنے یا افراط و تفریط میں مبتلا ہونے کا امکان ہے ۔دیگر شعبہ ہائے حیات کی طرح سیاست کے بارے میں بھی دین نے چند اصولی اور بنیادی ہدایات دی ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو اسلام اور سیاست کے حوالے سے واضح ہونا چاہیے کہ اسلام کوئی نظام سیاست نہیں دیتا ، بلکہ سیاست کے بارے میں ، زندگی کے دیگر پہلوؤں کی طرح، کچھ اصولی اوربنیادی ہدایات دیتا ہے ۔ یہ ہدایات انتہائی مختصر اور جامع ہیں ۔ ہم ان ہدایات کو بہت اختصار کے ساتھ ذیل میں پیش کیے دیتے ہیں ۔ہمارا یہ بیان اصل میں استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی تصنیف میزان کے باب قانون سیاست سے ماخوذ ہے ۔ہم ان ہدایات کو انہی عنوانات اور ترتیب کے ساتھ مختصراً پیش کر رہے ہیں جس طرح استاذ گرمی نے انہیں اپنی کتاب میں پیش کیا ہے۔ تفصیل کے لیے آپ اصل کتاب کے صفحات 483۔497 کامطالعہ کیجیے۔

بنیادی اصول

’’ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرواوراس کے رسول کی اطاعت کرواوران لوگوں کی جوتم میں سے صاحبِ امر ہوں۔ پھر تمھارے درمیان اگرکسی معاملے میں اختلاف راے ہوتو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو، اگرتم اللہ پراورقیامت کے دن پرایمان رکھتے ہو۔یہ اچھا ہے اورانجام کے لحاظ سے بھی یہی بہترہے ۔‘‘ (نساء4: 59)

قانون سیاست کے باب کی یہ بنیادی آیت ہے جس میں بنیادی اصول یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ ایک مسلم ریاست میں اطاعت کا اصل مرکز اللہ ورسول ہیں ۔ ان کے کسی حکم کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی ۔ان کے بعد ریاست کے نظم اور اس کے چلانے والے اولی الامر یعنی حکمرانوں کی اطاعت بھی لازمی ہے ۔ہاں اگر ان سے اختلاف ہوجائے تو فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہو گا۔

اصل ذمہ داری

’’اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کوادا کرواورجب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔نہایت عمدہ بات ہے یہ جس کی اللہ رتمھیں نصیحت کرتا ہے ۔ بیشک، اللہ سننے والا اوردیکھنے والا ہے ۔‘‘(نساء4: 54)

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ مذکورہ بالا اصول کی بنیادپرجوریاست قائم ہو گی، اس کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ قوم کی امانتیں اہلیت کی بنیادپرلوگوں کے سپردکرے اورعدل وانصاف کوزندگی کے ہرشعبے میں اور اس کی آخری صورت میں قائم کر دینے کی جدوجہدکرتی رہے ۔

دینی فرائض

’’یہ اہل ایمان وہ لوگ ہیں اگرہم ان کواس سرزمین میں اقتداربخشیں گے تونمازکا اہتمام کریں گے ، زکوۃ ادا کریں گے ، بھلائی کی تلقین کریں گے اوربرائی سے روکیں گے ۔‘‘ (حج22: 41)

سورۂ حج کی یہ آیت وہ دینی فرائض بیان کرتی ہے جوکسی خطۂ ارض میں اقتدارحاصل ہوجانے کے بعد مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی پرعائدہوتے ہیں ۔نمازقائم کی جائے ، زکوٰۃ اداکی جائے ، بھلائی کی تلقین کی جائے اوربرائی سے روکاجائے ، یہ چارباتیں اس آیت میں مسلمانوں پران کی اجتماعی حیثیت میں لازم کی گئی ہیں ۔

شہریت اوراس کے حقوق

  1. ’’پھراگروہ توبہ کر لیں اورنمازکا اہتمام کریں اورزکوٰۃ ادا کریں تودین میں تمھارے بھائی ہیں۔‘‘ (توبہ9: 11)
  2. ’’پھراگروہ توبہ کر لیں اورنمازکا اہتمام کریں اورزکوۃ ادا کریں توان کی راہ چھوڑ دو۔‘‘ (توبہ9: 5)

یہ دونوں آیتیں ایک مسلم ریاست میں مسلم شہریوں کے حقوق بیان کرتی ہیں ۔جولوگ یہ تین شرطیں پوری کر دیں ، وہ دین میں ہمارے بھائی ہیں اورانہیں ہر طرح کا تحفظ حاصل ہوجاتا ہے ۔ یہ تین باتیں درج ذیل ہیں :

اولاً، کفروشرک سے توبہ کر کے وہ اسلام قبول کر لیں ۔
ثانیاً، اپنے ایمان واسلام کی شہادت کے طورپرنمازکا اہتمام کریں ۔
ثالثاً، ریاست کانظم چلانے کے لیے اس کے بیت المال کوزکوۃ ادا کریں ۔

نظام حکومت

’’اوران کانظام باہمی مشورے پرمبنی ہے ۔‘‘ (شوریٰ42: 38)

یہ آیت مسلم ریاست کے اجتماعی نظام کی بنیاد کو بیان کرتی ہے ۔اس آیت کی رو سے امرا و حکمرانوں کے انتخاب کا معاملہ ہو یا کسی اور نوعیت کے اجتماعی معاملات کا، مسلمانوں کا اجماع یا ان کی اکثریت کا فیصلہ تمام معاملات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اسے کوئی رد نہیں کرسکتا۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author