میقات حرم اور ان کی تعداد

سوال:

میقات سے کیا مراد ہے؟ یہ تعداد میں کتنے ہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ پاکستانی حجاج کرام اپنے احرام کس جگہ سے باندھتے ہیں؟


جواب:

"حج وعمرہ کی غرض سے آنے والوں کے لیے حدود حرم سے کچھ فاصلے پر بعض جگہیں متعین کردی گئی ہیں جن سے آگے وہ احرام کے بغیر نہیں جاسکتے۔ ان پر یاان کے برابر کسی بھی جگہ پر پہنچ کر ضروری ہے کہ احرام باندھ لیا جائے۔ اصطلاح میں انھیں میقات کہا جاتا ہے۔ یہ جگہیں پانچ ہیں: مدینہ سے آنے والوں کے لیے ذوالحلیفہ، یمن سے آنے والوں کے لیے یلملم، مصرو شام سے آنے والوں کے لیے جحفہ، نجد سے آنے والوں کے لیے قرن اور مشرق کی طرف سے آنے والوں کے لیے ذات عرق۔" (میزان ، ص 384)


پاکستانی حجاج جب پاکستان سے سعودی عرب کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو وہ میقات کے اوپر سے گزرتے ہوئے حدود حرم میں داخل ہو جاتے ہیں ، ضروری ہے کہ وہ جب حدود حرم میں داخل ہوں تو احرام باندھے ہوئے ہوں، لہٰذا انھیں ابتداے سفر، یعنی کراچی ایئر پورٹ ہی سے احرام باندھنا پڑتا ہے۔


آج کل حج کرانے والی کمپنیاں حاجیوں کی باقاعدہ رہنمائی کے لیے پورا پورا اہتمام کرتی ہیں، اس لیے آپ بے فکر رہیں، وہ اس مسئلے میں آپ کی پوری پوری رہنمائی کریں گی اور آپ کو ویسا ہی کرنا چاہیے جیسا وہ گائیڈ کریں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author