میراث کا ایک قضیہ

سوال:

ایک صاحب نے اپنے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس اپنی وفات کے بعد کیش کرانے کی اتھارٹی اپنے ایک قانونی وارث کو دے دی، جب ان کی وفات ہوئی تو ان صاحب نے ایک عرصہ تک وہ ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس کیش نہیں کرائے۔ پھر عدالت نے ان سرٹیفکیٹس کو باقی جائداد میں شامل کرتے ہوئے ، انھیں کیش کرانے کی اتھارٹی سب ورثا کو دے دی۔
سوال یہ ہے کہ ان سرٹیفکیٹس کی رقم کا اصل حق دار کون ہے، کیا وہی شخص جسے مرحوم نے خود نامزد کیا تھا اور اسے کیش کرانے کی اتھارٹی دی تھی یا پھر سبھی ورثا جنھیں اب عدالت نے حق دار قرار دے دیا ہے؟


جواب:

اس سوال میں موجود معلومات ہی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عدالت نے نامزد شخص(Nominee) کے حق میں یہ بات تسلیم نہیں کی کہ مرنے والے نے اسے ان ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس کا مالک بنا دیا تھا، بلکہ اس کے نزدیک اسے محض ان سرٹیفکیٹس کو کیش کرانے کا حق دیا گیا تھا۔ چنانچہ اب عدالت نے سارے ورثا کو ان کا مالک مانتے ہوئے کیش کرانے کا حق سبھی کو دے دیا ہے۔ ہمارے خیال میں یہی بات صحیح ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author