مرد کا ستر

سوال:

١- جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے اور یہ نماز کی شرائط میں سے بھی ہے، اس کی کیا حقیقت ہے اور کن دلائل کی بنیاد پر ایسا کہا جاتا ہے؟ کیا یہ الله اور رسول نے متعین کیا ہے یا فقہا کی اپنی رائے ہے؟ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

٢- عورت کے ستر کے بارے میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جو حضرت اسما بنت ابو بکر سے مروی ہے- میرے علم کے مطابق کم و بیش سب ہی علما شاید اسی حدیث کی رو سے چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کے سوا تمام جسم کو ستر قرار دیتے ہیں- کیا علمائے امّت میں سے کسی اور نے بھی اس سے مختلف رائے کا اظہار کیا ہے؟ کیا اس حدیث میں کوئی ضعف ہے یا اس کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے؟

٣- جیسا کہ میں سمجھتا ہوں، آپ لوگوں کا کہنا ہے کہ شریعت نے لباس کےحدود و خدوخال متعین نہیں کیے بلکہ شرم و حیا اور ایک مہذب لباس کی تلقین کی ہے، جب کہ زیب و زینت نہ کی ہوئی ہو- مجھ پر اس کا اطلاقی پہلو کچھ واضح نہیں ہے- گویا ہر ایک کو اپنے لیے مہذب لباس کا فیصلہ خود کرنا ہے، تو اس فیصلے میں معاشرے کے معروف معیار کا کتنا دخل ہے یا یہ محض اپنے فطری احساس پر مبنی ہے- شرمگاہوں کو اچھی طرح ڈھانپنے کے بعد اگر معاشرے کے معروف کی پیروی کی جاۓ تو کیا دین کا منشا پورا ہو جاتا ہے؟شرمگاہوں کی حفاظت تو ایک فطری امر بھی ہے، لیکن اس سے اوپر اوپر ہر معاشرے میں مہذب لباس کا تصور مختلف ہوتا ہے- ایک مغربی معاشرے میں بازو اور پنڈلی ( اور شاید کندھے بھی ) کھلے ہونے کے باوجود لباس مہذب ہی کہلاتا ہے اور ذرا بھی عجیب اور معیوب نہیں سمجھا جاتا- تو ایک مغربی عورت کو کیسے کہا جائے کہ مہذب لباس وہی ہے جو پاکستان میں مہذب کہلاتا ہے- مزید یہ کہ دین میں لباس کے حدود کو متعین نہ کرنے میں کیا حکمت ہے؟ مثلا کیا یہی کہ مختلف معاشروں میں ان کے حالات کے اعتبار سے رعایت کی جائے اور لوگوں کے لیے تنگی نہ پیدا ہو؟معلوم نہیں میں اپنا سوال واضح کر سکا ہوں یا نہیں-

براہ کرم میری کم علمی پر در گزر کریں اور تفصیلی وضاحت فرمادیں۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ نے اسلام کی لباس سے متعلق تعلیمات کے بارے میں پوچھا ہے اور عام طور پر ستر کا اطلاق جس حصے پر کیا جاتا ہےاس کی بنا بھی پوچھی ہے۔

عرض ہے کہ لباس کا تعلق بے شک اصلاً تہذیب و ثقافت سے ہے۔ لیکن اسلام کی بعض تعلیمات لباس کےمتعلق ہمارے رویے پر لازما اثر انداز ہوں گی۔ ہمیں شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ ہمارے لباس لازما ساتر ہوں گے۔ ساتر ہونے سے مراد یہ ہے کہ ہم کوئی ایسی تراش اختیار نہیں کریں گے جو جنسی کشش پیدا کرتی ہو۔ اس حوالے سے دیکھیں تو ستر کاتعین اسی حکم کے اطلاق کو واضح کرنے کی سعی ہے۔ اصولی حکم کو سامنے رکھیں تو آپ بیان کردہ ستر سے شاید ہی اختلاف کریں۔

عورتوں کو اوڑھنی لینے اور زینتیں چھپانے کا حکم دیا گیا ہے اس لیے ان کے لباس کا معاملہ مردوں سے زیادہ محتاط ہے۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کا آمنا سامنا ہو تو مردوں کو بھی پورے لباس میں ہونا چاہیے۔ کام کاج کی ضرورتوں میں کچھ کمی بیشی کی گنجایش کے ساتھ۔

نماز میں ہمیں پورا لباس پہننا چاہیے الا یہ کہ کوئی عذر لاحق ہو۔

آخر میں یہ بات بھی واضح کر دوں کہ تہذیبی معاملات میں اگر اختلاف ہو تو حضور کے زمانے کے طور اطوار کو رہنما بنایا جائے گا۔ اس لیے کہ اسے وحی کی تصویب حاصل ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author