مردوں کے ليے سونے اور ریشم کا استعمال

سوال:

1- کیا اسلام میں مردوں کے لیے سونا استعمال کرناحرام ہے حالاں کہ قرآن میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ زینت کی چیزیں جس طرح آخرت میں مومنوں کے لیے ہوں گی اسی طرح وہ دنیا میں بھی ان کے لیے ہیں؟

2- کیا ریشم کے کپڑ ے مردوں کے لیے ناجائز ہیں حالانکہ قرآن زینت کی چیزوں کو ممنوع ٹہرانے کو غلط قرار دیتا ہے ؟


جواب:

1- آپ کا سوال یہ ہے کہ قرآن کریم کے مطابق زینتوں کا استعمال ممنوع نہیں تو پھر سونا پہننے کو کیوں حرام قرار دیا گیا ہے؟ یہ بات متعدد احادیث میں بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے کو مردوں کے لیے ممنوع قرار دیا ہے ۔ان میں سے چند درج ذیل ہیں :

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ۔‘‘، (مسلم کتاب اللباس و الزینۃ ، باب سونے کی انگوٹھی کا مرد کو حرام ہونا)

’’سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو!ریشم اوردیباج نہ پہنواورنہ سونے اورچاندی کے برتن میں پانی پیواورنہ سونے چاندی کی رکابی میں کھاناکھاؤکیونکہ یہ سامان کفارکے واسطے دنیامیں ہے اورہمارے واسطے آخرت میں ہو گا۔‘‘، (بخاری کتاب الاطعمۃ ، باب چاندی کے برتن میں کھانے کا بیان )

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ ریشم کو سیدھے ہاتھ میں اور سونے کو الٹے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزوں میری امت کے مردوں پر حرام کر دی ہیں ۔‘‘، (ابو داؤد ، رقم4057)

’’ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہے ۔‘‘، (ترمذی ، رقم1720)

جبکہ دوسری طرف قرآن کا وہ بیان ہے جس کا حوالہ آپ نے دیا۔ اس کا ترجمہ اس طرح ہے :

’’اور کھاؤ اور پیو، اوراسراف نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اے رسول ان سے پوچھو، کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دی ہیں ۔کہو ، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی اہل ایمان کے لیے ہیں ، اور قیامت کے دن توخالصتاً انہی کے لیے ہوں گی۔‘‘، (سورۂ اعراف 31-33)

ان آیات میں اور حدیث میں آنے والے بظاہر تضاد کو سمجھنے لیے ضروری ہے کہ اس پس منظر کو سمجھا جائے جس میں رسول اللہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔ زمانۂ قدیم میں سونے چاندی کے کنگن اور انگوٹھیاں شاہی لباس کا حصہ ہوا کرتے تھے ۔ان کے دسترخوان پر سونے چاندی کے برتن عام استعمال ہوتے تھے ۔ ان کی دیکھا دیکھی طبقۂ امرا میں یہ رواج عام ہو گیا تھا۔سونے کی حیثیت یہ ہے کہ سونازینت ہی کی چیز نہیں ، بلکہ ایک انتہائی قیمتی دھات بھی ہے ۔چنانچہ یہ معاملہ صرف زینت کا نہ تھا بلکہ اس میں تین نمایاں چیزیں اور شامل تھیں ۔ایک اظہارِ شان اور تکبر ، دوسرے اسراف اور فضول خرچی اور تیسرے دنیاکی زندگی اور اس کی زینتوں کو مقصود محض بنالینا۔ یہ تینوں چیزیں وہ ہیں جو مذکورہ بالا آیت میں زینت کے حوالے سے آنے والی اجازت کے باجود ممنوع ہیں ۔ اسراف کا ذکر تو انہی آیا ت میں آ گیا ہے ۔باقی دوچیزوں سے بھی قرآن کریم میں جگہ جگہ روکا گیا ہے۔

چنانچہ جب رسول اللہ علیہ وسلم نے سونے کے استعمال سے روکا تو بات صرف کسی زینت سے روکنے کی نہ تھی ، بلکہ تکبر، اسراف اور دنیا پرستی تینوں سے روکنے کی تھی۔خواتین چونکہ زینت کے لیے اضافی طور پر بہت سی چیزیں استعمال کرتی آئی ہیں اور کسی حد تک یہ ان کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ان کو یہ رعایت دے دی گئی ہے کہ وہ زینت کی غرض سے اسے استعمال کرسکتی ہیں جیسا کہ اوپر بیان کردہ احادیث سے واضح ہے۔ تاہم یہاں دو باتیں یاد رکھنی چاہیے ۔ ایک یہ کہ خواتین اپنی زینت میں اگر تکبر، اسراف اور دنیا پرستی کا عنصر شامل کر لیں تو پھراس کا بھی حکم یہی ہو گا۔دوسرے یہ کہ ممانعت کی اصل وجہ یعنی تکبر اور اسراف وغیرہ کسی اورچیز میں بھی اگرموجود ہیں جیسے کوئی خاص لباس، کوئی خاص قسم کی گاڑ ی وغیرہ تو وہ بھی ناجائز ہوں گے ۔کیونکہ اصل مسئلہ سونانہیں ، بلکہ اس کی یہ حیثیت ہے کہ وہ اسراف اور تکبر کا سبب بن رہا ہے ۔یہ علت کسی اور چیز میں پائی جائے گی تو وہ بھی ناجائز ہو گی۔

2- احادیث کی رو سے مردوں کے لیے ریشم پہننے کی بھی ممانعت ہے ۔ اس حوالے سے کچھ روایات اوپر گزری ہیں ۔ ایک اور روایت جو یہ بتاتی ہے کہ قیامت کے دن یہ اہل ایمان کا لباس ہو گا اس طرح ہے :

قرآن کریم میں بھی یہ بات بار بار بیان ہوئی ہے کہ اہل جنت کو ریشم و دیبا کی قبائیں پہنائی جائیں گی۔اس معاملے میں بھی اصل بات وہی ہے جو ہم سونے کے استعمال کے حوالے سے بیان کر چکے ہیں خالص ریشمی لباس کا استعمال اسراف، تکبر اور دنیا پرستی کے رویوں سے عبارت ہوتا ہے ۔ یہ ہمارا اندازہ نہیں بلکہ تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ برتر طبقات نے ان چیزوں کو ہمیشہ اپنی امارت اور شان و شوکت کے اظہارکا ایک ذریعہ بنایا ہے ۔اوریہی ریشم کی کی ممانعت کی اصل وجہ ہے ۔ تاہم جنت کی زندگی میں انسان نہ تکبر کا شکار ہوں گے ، نہ اسراف کا کوئی مسئلہ ہو گا۔ چنانچہ جب یہ علتیں نہیں ہوں گی تو اس کا استعمال بالکل جائز ہو گا۔

’’سیدناعمربن خطابؓ سے روایت ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے ریشمی لباس دنیامیں پہناوہ آخرت میں نہ پہنے گا۔‘‘، (بخاری کتاب اللباس ، باب ریشم کا استعمال)

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author