میلاد ذکر اور بدعت

سوال:

مجھے میلاد کے بارے میں معلوم کرنا ہے۔ کیا میلاد کرنا جائز ہے اگر نیت صرف اللہ تعالی کا ذکر کرنا ہو اور بدعت اس میں شامل نہ ہو؟


جواب:

میلاد کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ مذہب اسلام نے اس کا اجرا نہیں کیا ہے۔ ہماری تاریخ میں کبھی یہ دن اس طور پر نہیں منایا گیا۔ نہ ہی حتمی طور پر یہ طے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تاریخ پیدائش ہے کیا۔ یہ صرف دور جدید میں بر صغیر میں ہوا ہے کہ میلاد منانے کا کام شروع ہوا۔ جب ہم میلاد منانے کی بات کرتے ہیں تو اس کی ایک متعین شکل بناتے اور اس پھر اسے اجتماعی سطح پر مناتے ہیں۔ اس کے ساتھ جب بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے یوم پیدائش کی ہو تو لازما یہ تصور مذہبی ہو جاتا ہے اور اس طرح یہ خدشہ زور پکڑتا ہے کہ یہ ایک نئی مذہبی رسم بن گئی ہے۔ لہذا اگر کوئی اس دن شکرانہ کے طور پر کوئی کام کرنا بھی چاہتا ہے تو بہتر ہے کہ اسے اپنی ذات تک رکھے اور اسے اجتماع اور رسم کی شکل نہ دے۔

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author