مولانا وحید الدین کو جواب دینے سے مولانا مودودی کے گریز کرنے کی وجہ

سوال:

غامدی صاحب نے یہ کیوں کہا ہے کہ مولانا مودودی کی حسن طبیعت میں حسن فطرت کی جھلک تھی، جبکہ وحید الدین کی کتاب''تعبیر کی غلطی'' پڑھنے سے آدمی صاف طور پر یہ جان لیتا ہے کہ مودودی صاحب محض اس وجہ سے وحید الدین کے اٹھائے ہوئے سوال کا جواب نہیں دیتے کہ انھوں نے چھوٹے ہو کر ان کی پیش کردہ تعبیر دین پر اعتراض کی جرأت کی ہے۔ مولانا مودودی صاحب کے اس متکبرانہ رویے کے بعد غامدی صاحب کیسے یہ کہتے ہیں کہ ان کی طبیعت میں حسن فطرت کی جھلک تھی؟


جواب:

اگر آدمی کسی شخص کے پاس رہ کر اس کی خوبیوں سے متاثر ہو جائے تو پھر اس کے بارے میں وہ آسانی سے بدظن نہیں ہوتا۔ چنانچہ وہ حتی الامکان یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے عمل کی اچھی سے اچھی توجیہ کرے۔ سورۂ نور میں ہمیں حکم بھی یہی دیا گیا ہے کہ ہم مومن مردوں اور مومن عورتوں کے بارے میں حسن ظن رکھیں۔
غامدی صاحب سے ایک دفعہ اس موضوع پر بات ہوئی تھی تو انھوں نے کہا کہ وحید الدین کو جواب دینے سے مولانا مودودی کے گریز کرنے کی وجہ غالباًیہ ہے کہ انھوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ وحید الدین نے میرے سامنے علماے امت کی اکثریت کو لا کر کھڑا کر دیا ہے اور اب اگر میں اس پر گفتگو کرتا ہوں تو مجھے استدلال کی زبان میں اپنا یہ اعتماد بیان کرنا پڑے گا کہ یہ سب علما غلطی پر ہیں اور میں فلاں فلاں آیات کی رو سے حق پر ہوں۔ غامدی صاحب کا خیال ہے کہ مولانا مودودی جیسے شریف النفس آدمی نے اس بات کو گوارا نہیں کیا کہ وہ محض ایک شخص کے اصرار پر جلیل القدر علماے امت کو کسی بنیادی بات میں اس طرح براہ راست رد کریں۔ اس کے بجاے انھوں نے یہی کافی سمجھا کہ وہ اپنی راے مثبت طریقے سے بیان کر دیں اور علماے امت پر براہ راست تنقید کے طریقے کو اختیار نہ کریں، لہٰذا انھوں نے مولانا وحید الدین کے ساتھ بحث چھیڑنے کے بجاے ان سے پیچھا چھڑانے والی بات کی۔
یہ ساری بات مولانا مودودی کے بارے میں غامدی صاحب کے حسن ظن سے پھوٹی ہے، کیونکہ ان کے تجربے کے مطابق مولانا مودودی ایک اعلیٰ کردار کے آدمی تھے اور یہی وجہ ہے کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ مولانا مودودی نے اپنے تکبر کی وجہ سے وحید الدین سے اعراض کیا ہے، بلکہ وہ ان کی شخصیت کے بارے میں اچھی بات ہی کہتے ہیں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author