مومن کی سادگی اور فراست

سوال:

احادیث میں ہے:

المؤمن غر کریم.

لا یلدغ المؤمن من جحر واحد مرتین.

اتقوا فراسة المؤمن فإنہ یری بنور ربہ.

بظاہر ان روایات میں تناقض ہے۔ ان روایتوں کوکس طرح جمع کریں گے؟


جواب:

دونوں باتوں کا محل الگ الگ ہے۔ شارحین نے بالکل صحیح بیان کیا ہے کہ اس سے فریب اور چالاکی کی نفی کی گئی ہے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ مومن سمجھ دار نہیں ہوتا۔ مومن خدا کے حضور جواب دہی کے احساس کے تحت فریب اور سازش جیسے مکروہ کاموں سے گریزاں رہتا ہے۔ اسی طرح وہ حسن ظن اور خیر خواہی کے جذبے کے تحت خود غرضی اور موقع پرستی جیسے عوارض سے بھی بلند ہو جاتا ہے ، اسی وجہ سے وہ اپنے رویے اور عمل میں ایک سادہ آدمی نظر آتا ہے۔ غالباً یہی بات ہے جس کے لیے 'غر کریم' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ دوسری روایتوں میں مومن کے سمجھ دار ہونے کے پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی سمجھ کا اعلیٰ ترین اظہار اخلاق کی درستی اور جذبات کے صحیح رخ پر استوار ہونے میں ہے۔ دین کی تعلیمات دل و دماغ میں اتر جائیں اور عمل اس کے مطابق ڈھل جائے تو وہ فراست حاصل ہو جاتی ہے جسے فراست مومن سے تعبیر کیا گیا ہے۔ باقی رہے دنیا کے شر تو اللہ تعالیٰ ان سے حفاظت کا بند وبست ایسے صالحین کے لیے اپنی جناب سے کرتے رہتے ہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author