مصارفِ زکوٰۃ اور بہن کو زکوٰۃ دینا

سوال:

ہم زکوٰۃ کس کس کو دے سکتے ہیں؟ کیا اپنی بہن کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟


جواب:

جی بالکل اپنی بہن کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے ، بلکہ اس میں اجر بھی دوہرا ہے؛ ایک زکوٰۃ کی ادائیگی کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ باقی رہا یہ سوال کے زکوٰۃ کے مصارف کیا ہیں اور یہ کن کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے ، اس کی وضاحت کرتے ہوئے استاذ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’زکوٰۃ کے مصارف سے متعلق کوئی ابہام نہ تھا۔ یہ ہمیشہ فقراو مساکین اورنظم اجتماعی کی ضرورتوں ہی کے لیے خرچ کی جاتی تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب منافقین نے اعتراضات کیے توقرآن نے انھیں خودپوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ ارشادفرمایا:

’یہ صدقات توبس فقیروں اورمسکینوں کے لیے ہیں ، اوران کے لیے جوان پرعامل بنائیں جائیں ، اوران کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو، اوراس کے لیے کہ گردنوں کے چھڑ انے اورتاوان زدوں کی مدد کرنے میں ، راہ خدامیں اورمسافروں کی بہبودکے لیے خرچ کیے جائیں ، یہ اللہ کا مقررکردہ فریضہ ہے اوراللہ علیم وحکیم ہے ۔‘(التوبہ9: 60)

اس آیت میں جو مصارف بیان کیے گئے ہیں ، ان کی تفصیل یہ ہے :

فقراومساکین کے لیے ۔

’العاملین علیھا‘، یعنی ریاست کے تمام ملازمین کی خدمات کے معاوضے میں ۔(اس لیے کہ ریاست کے تمام ملازمین درحقیقت ’العاملین علی اخذالضرائب و ردھا الی المصارف‘ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ نہایت بلیغ تعبیرہے جوقرآن نے اس مدعاکوادا کرنے کے لیے اختیارکی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ لوگ بالعموم اسے سمجھنے سے قاصر رہے ہیں ، لیکن اس کی جوتالیف ہم نے بیان کی ہے ، اس کے لحاظ سے دیکھیے تواس کایہ مفہوم بادنیٰ تامل واضح ہوجاتا ہے)

’المؤلفۃ قلوبھم‘یعنی اسلام اورمسلمانوں کے مفاد میں تمام سیاسی اخراجات کے لیے ۔

’فی الرقاب‘، یعنی ہرقسم کی غلامی سے نجات کے لیے ۔

’الغارمین‘کسی نقصان، تاوان یاقرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مددکے لیے ۔

’فی سبیل اللہ‘، یعنی دین کی خدمت اورلوگوں کی بہبودکے کاموں میں ۔

’ابن سبیل‘، یعنی مسافروں کی مدداوران کے لیے سڑ کوں ، پلوں ، سراؤں وغیرہ کی تعمیرکے لیے ۔‘‘ ، (میزان ، باب: قانون عبادات، زکوٰۃ کا قانون، ص 351)

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author