مشینی تصویر کشی

سوال:

میرے نزدیک فوٹو گراف یا ٹی وی کوریج وہ تصویر نہیں ہے جسے اسلام میں ممنوع قرار دیا گیا ہے، وجہ یہ ہے کہ فوٹو گراف خدا کے بنائے ہوئے منظر کاصحیح عکس ہوتا ہے۔ اسی طرح ٹی وی کوریج بھی خدا کے بنائے ہوئے مناظر کی حقیقی عکاسی ہوتی ہے۔ ہم خدا کے بنائے ہوئے منظر کا حقیقی عکس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے ہوتے ہیں۔وڈیو ریکارڈنگ بھی یہی چیز ہے۔ خدا کی بنائی ہوئی چیزوں کا عکس ہے جسے مشینوں پر محفوظ کیا جا رہا ہے۔کیا میرا یہ خیال درست ہے؟


جواب:

آپ کی توضیح سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک تصویر کی حرمت میں سبب خود سے کوئی چیز بنانا ہے۔ خدا کی بنائی ہوئی چیز کا حقیقی عکس تیار کرنا چونکہ خود سے کوئی چیز تخلیق کرنا نہیں ہے، اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ گویا آپ کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن اپنی تصویروں کو زندہ کرکے دکھانے کے لیے کہا جائے گاتو اس سے آپ کی مراد یہی تھی کہ اصل جرم خود سے کوئی چیز تخلیق کرنا تھا جس پر اللہ تعالیٰ غصہ ظاہر کریں گے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو اسے زندہ کرنے کا حکم دے کر اس پر اس کے جرم کی شناعت واضح کریں گے۔ غرض یہ کہ فقہا کا یہ استنباط کہ زندہ چیز کی تصویر بنانا ممنوع ہے، آپ کے نزدیک صحیح استنباط نہیں ہے۔


دین کے احکام پر غور کرنے میں دو طریقے ہیں: جہاں نصوص ہوںوہاں نصوص کے معنی طے کیے جائیں اور ان میں جو علت بیان ہوئی ہے، اس کا اطلاق کیا جائے۔ اگر یہ صورت نہ ہو تو پھر دین کے مجموعی نظام میں رکھ کر دیکھا جائے کہ اس حکم کی حکمت کیا ہے۔ تصویر کے حوالے سے قرآن مجید میں کوئی بات بیان نہیں ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی تماثیل کا ذکر ہوا ہے تو وہاں بھی اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ ہم اس کے جواز وعدم جواز کا کوئی اصول دریافت کر سکیں۔


البتہ، احادیث میں واضح الفاظ میں تصویر کی حرمت بیان ہوئی ہے۔ تمام احادیث کا مطالعہ کرنے سے یہ بات متعین ہو جاتی ہے کہ یہ روایات تصویروں کی ایک خاص نوعیت سے متعلق ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ان میں ان تصویروں کی حرمت بیان ہو رہی ہے جو پرستش کے لیے بنائی جاتی تھیں۔ عام تصویریں ان میں زیر بحث ہی نہیں ہیں۔


بطور اصول یہ بات واضح رکھیں کہ دین میں حرمت وحلت کا فیصلہ یا تو خدا کے تعلق کے حوالے سے ہوگا یا کسی اخلاقی اصول کے تحت ہوگا۔ کوئی تیسری چیز دین میں حلت و حرمت کا سبب نہیں ہے۔


آپ کا یہ خیال کہ کیمرہ اصل کی عکاسی کرتا ہے اور مصوروں کی تصویروں اور کیمرے کی تصویر میں یہ ایک اہم فرق ہے،اس لیے تصویر کی حرمت میں اسی کو پیش نظر رکھنا چاہیے، اس لیے بھی درست نہیں ہے کہ پرانے مصور بھی خدا کی بنائی ہوئی اشیا کی عکاسی بھی کرتے تھے اور اس میں اپنے احساس کو شامل کرتے ہوئے کچھ تغیر وتبدل بھی کرتے تھے۔ چنانچہ روایات سے یہ بات سامنے آنی چاہیے تھی کہ تصویر بنانے میں صرف اصل کی عکاسی کیا کرو، اس میں کوئی کمی بیشی جائز نہیں ہے۔


آخر میں قیامت کے دن زندہ کرنے کے حکم کی علت بھی واضح کردوں۔ مشرکین چونکہ ان تصاویر کو نافع وضار مانتے تھے، اس لیے ان پر اتمام حجت کے لیے یہ کہا جائے گا کہ جن تصویروں اور بتوں کو تم حاضر وناظر اور نافع وضار مانتے تھے، ان کی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ محض تصویریں اور مورتیاں ہیں۔ اگر تمھارا دعویٰ سچا تھا تو اسے ثابت کرکے دکھاؤ۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author