محتاجی سے بچنے کی دعا

سوال:

میں نے ماہنامہ ''اشراق'' کے کسی شمارے میں پڑھا ہے: ''اللہ تعالیٰ نے یہ نظام اس طرح قائم کیا ہے کہ یہاں سب لوگ ایک دوسرے کے محتاج اور محتاج الیہ کی حیثیت سے پیدا ہوئے ہیں۔'' میں ہی نہیں سب لوگ یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ کسی کا محتاج نہ کرے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم غلط دعا کرتے ہیں؟


جواب:

آپ کی دعا بالکل درست ہے۔ ہماری بھی دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کسی کا محتاج نہ کرے(آمین)۔ محولہ عبارت میں جو محتاجی بیان ہوئی ہے، اس میں اور ہماری دعا کی محتاجی میں فرق ہے۔ ہم تو صحت اور اپنی کمائی کے جاری رہنے کی دعا کرتے ہیں۔ صحت اس لیے کہ ہم موت تک اپنے سارے کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے ہوئے رخصت ہوں۔ کسی بہو، بیٹے یا بیٹی کی ذمہ داری نہ بن جائیں۔ اپنی کمائی اس لیے کہ ہمیں اولاد ہی کیوں نہ ہو، اس کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ محولہ عبارت میں محتاجی سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے دونوں طرح کے لوگوں کی ضرورت ہے، ایک وہ جو سرمایہ فراہم کریں اور انتظام کریں اور دوسرے وہ جو ان کے لیے کام کریں۔ اس طرح لوگ مختلف خدمات انجام دیتے ہیں اور معیشت کی گاڑی رواں دواں رہتی ہے۔غرض یہ کہ اس عبارت میں اس نوعیت کی خدمات کے لیے محتاج اور محتاج الیہ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author