مجتہدین، اجتہاد اور اجماع

سوال:

کیا مجتہد کا تصور آج بھی کوئی عملی قدر و قیمت رکھتا ہے؟ کیا اجتہاد اور اجماع اب بھی قرآن کے ماہرین اور فقہا ہی کے لیے مخصوص ہیں؟


جواب:

اس میں شبہ نہیں ہے کہ اسلام میں اجتہاد اور اجماع کے معاملات قانون اسلامی کے ماہرین اور مجتہدین ہی کے لیے خاص ہیں، لیکن اس تخصیص کی بنیاد کسی روایت پرستی، کسی طبقاتی یا خاندانی تقدیس یا کسی گروہ خاص کی اجارہ داری پر نہیں ہے، بلکہ اسلامی قانون کے ایک فطری تقاضے پر ہے۔ وہ تقاضا یہ ہے کہ اسلامی قانون عام دنیاوی قوانین کی طرح بادشاہوں، عدالتوں، پارلیمنٹوں اور قانون ساز مجلسوں کا بنایا ہوا نہیں ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا دیا ہوا ہے۔ ہم اپنی طرف سے نہ اس میں کوئی ترمیم و تغیر کر سکتے اور نہ کوئی کمی بیشی۔ ہمیں اس قانون میں صرف اتنا اختیار ہے کہ جو حالات و مسائل ہمارے سامنے ایسے آئیں جن کی وضاحت اصل قانون میں نہیں ہے۔ ان کے لیے، اصل قانون کو سامنے رکھ کر اس کے اشارات اور تقاضوں کی روشنی میں، احکام و ہدایات مستنبط کر لیں۔ اسی استنباط کو اسلام کی اصطلاح میں اجتہاد کہتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ اجتہاد ہر شخص کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ یہ ایک طرف تو اس امر کا مقتضی ہے کہ آدمی کو اصل قانون میں پوری پوری مہارت حاصل ہو تا کہ وہ اس کے اشارات اور مقتضیات کو اچھی طرح سمجھ سکے اور زندگی کے مسائل پر ان کو منطبق کر سکے۔ نیز دوسرے اس کے اخذ و استنباط پر اعتماد کر سکیں۔

دوسری طرف یہ اس امر کا بھی مقتضی ہے کہ آدمی اصل قانون کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان و اعتقاد رکھتا ہو، کیونکہ اس ایمان و اعتقاد کے بغیر اس کے اوپر یہ بھروسا مشکل ہی سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ پوری وفاداری اور دیانت کے ساتھ اس اجتہاد کے فرض کو انجام دے گا۔

اب غور فرمائیے کہ جس کام میں فنی اور قانونی مہارت و قابلیت کی ضرورت ہے، اس میں ایک ایسے شخص کے دخل دینے کے کیا معنی جو نہ اصل قانون کی زبان اور اس کے قواعد سے واقف، نہ اس کے ماخذوں کے مراتب و مدارج سے واقف، نہ اس کی ترمیمات اور تبدیلیوں سے واقف؟ اگر اسلام اجتہاد کرنے سے کسی ایسے شخص کو روکے جو ان صفات کا حامل ہے تب تو یہ بات، بلاشبہ قابل اعتراض ہے، لیکن اس صورت میں یہ بات قابل اعتراض کس طرح ہو سکتی ہے، جبکہ اسلام ہر اس شخص کو اجتہاد کاحق دیتا ہے جو ان اوصاف کا حامل ہے، عام اس سے کہ وہ کوئی مرد ہے یا عورت، آزاد ہے یا غلام، عربی ہے یا عجمی۔ صرف ان کو اس چیز سے روکتا ہے جو ان صفات کے حامل نہیں ہیں، اگرچہ عام معنی میں وہ علما اور مولویوں ہی کے گروہ سے تعلق رکھنے والے کیوں نہ ہوں۔

اسی طرح جب اس کے لیے ایمان و اعتقاد کی شرط ہے تو آخر اس قانون میں ان لوگوں کے اجتہاد کے کیا معنی جو سرے سے اس کو خدائی قانون مانتے ہی نہیں۔ ایسے لوگوں پر یہ اعتماد کس طرح کیا جا سکتا ہے کہ یہ اس کی حرمت اس طرح ملحوظ رکھ سکتے ہیں، جس طرح خدائی قانون کی حرمت ملحوظ رکھنے کا حق ہے۔

اس قسم کی فنی اور قانونی قابلیت صرف اسلامی قانون ہی کی توضیح و تشریح میں ضروری نہیں سمجھی گئی ہے، بلکہ یہ کام دنیا کے ہر قانون میں قانون اور اس کی اصل زبان کے ماہرین ہی کرتے ہیں۔ انگریزی اور امریکی قانون کی توضیح و تشریح اور معاملات زندگی پر ان کی تطبیق آخر انگلستان اور امریکا کے علماے قانون ہی کرتے ہیں، ان ملکوں کے عام افراد تو اس کام کے اہل نہیں سمجھے جاتے، پھر اجتہاد کے لیے اگر اسلام نے یہ شرط لگائی ہے کہ اس کام کو اسلامی قانون کے ماہر علما ہی کریں تو اس پر لوگوں کو تعجب کیوں ہوتا ہے؟

اجتہاد ہی کی طرح اسلام میں اجماع کا معاملہ بھی ہے۔ جس طرح اجتہاد کا مفہوم عام معنی میں قانون سازی نہیں ہے، بلکہ اسلام کے اصل قانون کے اشارات و مقتضیات کی روشنی میں مسائل و احکام کا اخذ و استنباط ہے، اسی طرح اجماع کا مفہوم بھی مجرد مسلمانوں کا کسی امر پر متفق ہو جانا نہیں ہے، بلکہ کسی بات پر اس پہلو سے متفق ہو جانا ہے کہ یہی بات اسلامی قانون کے فحویٰ اور مقتضیٰ اور اس قانون کے امثال و نظائر کے مطابق ہے۔ اس موضوع پر اپنی کتاب ’’اسلامی قانون کی تدوین‘‘ میں تفصیل کے ساتھ میں نے یہ دکھایا ہے کہ اجماع درحقیقت اجتہاد ہی کی سب سے اعلیٰ قسم ہے۔ ایک اجتہاد تو وہ ہوتا ہے جس کی حیثیت کسی مجتہد کی انفرادی راے کی ہوتی ہے اور ایک اجتہاد وہ ہوتا ہے جس پر وقت کے تمام مجتہدین متفق ہو جاتے ہیں۔ اس ثانی الذکر نوعیت کے اجتہاد کو اسلام کی قانونی اصطلاح میں اجماع کہتے ہیں۔

اب ظاہر ہے کہ جب اجماع کی بنیاد اجتہاد پر ہوئی تو اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ اس میں اصلی اعتبار مجتہدین اور ملت کے ارباب حل و عقد کا ہو، نہ کہ عوام کا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس میں عوام کی شرکت کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ وہ اجماع اسلام میں معتبر نہیں ہے جس سے مجتہدین، یعنی قانون اسلامی کے ماہرین الگ ہوں۔ اور غور کیجیے تو صاف واضح ہو جائے گا کہ جب اجماع کا مفہوم مجرد کسی امر پر جمہور کا اتفاق راے نہیں ہے، بلکہ ایک اجتہاد پر اتفاق راے ہے تو اس اتفاق راے سے مجتہدین، علما اور ماہرین قرآن کے الگ کر لینے کے بعد اسلام کی نظر میں اس کی کیا قدر و قیمت باقی رہ جائے گی۔

اب رہا اس زمانہ میں مجتہد کے تصور کی عملی قدر و قیمت کا سوال تو اس کی قدر و قیمت کا انحصار اسلامی قانون کی قدر و قیمت پر ہے۔ دنیا کے جس خطہ کے مسلمان اسلامی قانون کی قدر و قیمت سمجھیں گے اور اس کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں گے، ان کے لیے مجتہدین کی ضرورت ان کی اجتماعی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہو گی۔ جس طرح دنیا کے ہر نظام سیاسی میں ماہرین قانون، اس نظام سیاسی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، بعینہٖ وہی حیثیت اسلام کے نظام سیاسی میں مجتہدین رکھتے ہیں۔ ہاں اگر اسلامی قانون کی محض زبان سے قصیدہ خوانی ہوتی رہی، عملی زندگی سے اس کا کوئی تعلق قائم نہ ہو سکا تو خدا اور رسول کے تصور کی بھی اس زمانہ میں کوئی عملی قدر و قیمت باقی نہیں رہ جاتی، مجتہد کے تصور کی عملی قدر و قیمت کا سوال تو بہت بعد کا سوال ہے۔

(تفہیم دین ۱۲۳-۱۲۵)

answered by: Imam Amin Ahsan Islahi

About the Author