معجزے کا مقصد

سوال:

کیا تمام نبیوں اور رسولوں کو معجزے عطا کیے گئے تھے؟ کیا معجزہ اللہ کے قانون فطرت سے متصادم نہیں ہوتا؟کیا قرآن مجید میں یہ بات موجود ہے کہ اللہ اپنی سنت کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا؟


جواب:

یہ بات تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سب رسولوں اور نبیوں کو معجزے دیے ہیں، کیونکہ بہت سے انبیا ایسے ہیں جن کے بارے میں ہمیں بالکل کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ معجزہ یقینا اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے اپنے جاری کردہ قانون ہی کو توڑتا ہے اور معجزہ دیا بھی اسی لیے جاتا ہے کہ وہ جاری قانون کو توڑ کر یہ بتا دے کہ جس شخص کے ہاتھ سے یہ واقعہ سرزد ہو رہا ہے، اس کے پیچھے اس کائنات کا مالک کھڑا ہے۔ خدا نے قرآن مجید میں کہیں بھی ایسی کوئی بات نہیں کی کہ وہ کائنات میں اپنے جاری قانون کو ہرگز نہیں توڑے گا۔ اس ضمن میں جن آیات سے استدلال کیا جاتا ہے، ان کا قوانین فطرت سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے، بلکہ وہ آیات رسولوں کے بارے میں اللہ کی مستقل سنت سے متعلق ہیں۔ جیسا کہ ارشادباری ہے:

لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِیْ قُلُوْبِيِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِيْهَآ اِلَّا قَلِيْلاً. مَّلْعُوْنِيْنَ اَيْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِيْلاً. سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلاً.(الاحزاب٣٣:٦٠-٦٢)

''یہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں سنسنی پھیلانے والے ہیں، اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم تم کو ان پر اکسا دیں گے، پھر وہ تمھارے ساتھ رہنے کا بہت ہی کم موقع پائیں گے۔ ان پر پھٹکار ہو گی، جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور بے دریغ قتل کیے جائیں گے۔ یہی اللہ کی سنت رہی ہے ان لوگوں کے بارے میں جو پہلے ہو گزرے ہیں اور تم اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔''

یہ رسولوں کے مخالفین کے بارے میں اللہ کی سنت ہے، نہ کہ قوانین فطرت کے بارے میں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author