مرتد کی سزا

سوال:

مرتد کے لیے اسلام میں سزاے موت کیوں رکھی گئی ہے، جبکہ دوسرے مذاہب میں یہ سزا نہیں ہے؟


جواب:

قرآن مجید میں بیان کی گئی سزاؤں میں مرتد کے لیے کوئی سزا بیان نہیں ہوئی۔ مزیدبراں سزاے موت بھی قرآن مجید میں صرف دو مجرموں کے لیے بیان ہوئی ہے: ایک قتل عمد کا مجرم اور دوسرے حرابہ کا مجرم۔


اس سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں: ایک یہ کہ قتل کی سزا دینے کے لیے ضروری ہے کہ مجرم یا قاتل ہو یا اس نے ریاست کے خلاف بغاوت کی ہو یا جرم کرتے ہوئے ریاست اورمعاشرے کی اتھارٹی کو چیلنج کیا ہو۔


آپ کے ذہن میں یقینا یہ سوال پیدا ہو گیا ہوگا کہ پھر ارتداد کی سزا کا ماخذ کیا ہے؟ فقہا کے نزدیک ارتداد کی سزا کا ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی قتل کی سزا کے حوالے سے صریح آیت کے خلاف ایک نئی سزا بیان کی ہو۔


جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور جرم پر بھی سزاے موت دی ہے۔ ہمارا اشارہ اس سزا کی طرف ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان مشرک قوموں کو دی ہے جن میں اس نے اپنے پیغمبر بھیجے اور انھوں نے حق پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود ان کو نہیں مانا۔ بالعموم یہ سزا کسی آسمانی آفت کی صورت میں نازل ہوتی رہی ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کی ایک بڑی جماعت کا ساتھ حاصل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کر دیا کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشرک منکرین کو یہ سزا ان صحابہ کے ہاتھوں سے دی جائے گی۔ چنانچہ آخری حج میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ مشرکین عرب حرام مہینوں کے گزرتے ہی قتال کر کے مار دیے جائیں گے۔ ان کے لیے اپنی جان بچانے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ کفر سے توبہ کرکے دین اسلام کو اختیار کر لیں۔ ظاہر ہے ، ان کے بعض افراد یہ طریقہ اختیار کر سکتے تھے کہ وہ ایمان قبول کرنے کا اعلان کر دیں اور بعد میں کفر کی طرف لوٹ جائیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح کر دیا کہ یہ اگر اپنا دین بدلیں تو انھیں قتل کر دیا جائے گا۔ فقہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو قرآن کے اس حکم سے متعلق نہیں سمجھا اور وہ اسے ایک مستقل بالذات سزا مانتے ہیں، اس لیے وہ اب بھی ارتداد کی سزاموت ہی سمجھتے ہیں۔ہمارے نزدیک یہ سزا صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست مخاطب مشرکین عرب کے لیے تھی۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author