مسافروں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں زکوٰۃ کا استعمال

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے گلی محلے کے راستوں کی تکالیف کو دور کرنے کے اخراجات میں اپنے اموالِ زکوٰۃ کو صرف کرسکتے ہیں یا نہیں؟ ہم اگر ایسا کریں تودین کی رو سے ہمارے اِس طرح کے عمل کی کیا حیثیت ہو گی؟ کیا ایسا کرنا درست ہو گا؟


جواب:

زکوٰۃ کی رقم کن جگہوں پر خرچ کی جا سکتی ہے ، اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ کریم میں دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ہمارے نقطۂ نظر کے مطابق مذکورہ آیت میں مسافر وں کی جو مد بیان ہوئی ہے وہ براہِ راست مسافروں کی مدد کے ساتھ ساتھ ان کی فلاح و بہبود کے تمام کاموں کا احاطہ بھی کرتی ہے۔ ان کے لیے سرائے ، بیت الخلا یاآرام گاہ تعمیر کرنا، ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرنا، ان کے لیے سڑ کیں اور پل تعمیر کرنا، راستوں کی صفائی کا انتظام اور ان کو بہتر بنانا وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔ اس فہم کی روشنی میں آپ اپنی زکوٰۃ کی رقم کوعلاقے کے لوگوں کے لیے بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے میں بلا جھجک خرچ کر سکتے ہیں ۔ان میں یقینا راستے کی تکالیف دور کرنابھی شامل ہے۔ تاہم خیال رہے کہ مالِ زکوٰۃ اجتماعی کاموں میں خرچ ہونا چاہیے نہ کہ اپنے گھر کے سامنے اوراپنی گلی کے ان مسائل کے حل میں خرچ ہو جن سے انسان کو خود پریشانی کا سامنا ہو۔

’’صدقات توبس فقرا ، مسکینوں ، عاملینِ صدقات اورتالیفِ قلوب کے سزاواروں کے لیے ہیں اوراس لیے کے یہ گردنوں کے چھڑ انے ، تاوان زدوں کے سنبھالنے ، اللہ کی راہ اور مسافروں کی امدادمیں خرچ کیے جائیں۔ یہ اللہ کامقررکردہ فریضہ ہے۔ اوراللہ علم والا اور حکمت والا ہے۔‘‘ ، (التوبہ9: 60)

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author