مسلمانوں کی حالت زار کی وجہ

سوال:

مسلمانوں کی حالت زار کی وجہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟


جواب:

پچھلے دو تین سو برسوں میں علم نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ خاص طور پر طبعی علوم میںبہت ترقی ہوئی ہے۔ مغرب میں اس کا ایک خاص پس منظر ہے۔ یہ بات ایک معلوم حقیقت ہے کہ مغرب میں پہلے اصلاح (Reformation) کی ایک تحریک چلی، اس کو اصلاح دین کی تحریک کہا جاتا ہے، جس کے بارے میں اقبال نے کہا کہ 'دیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیں'۔اسی تحریک نے وہاں نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کے لیے بنیادیں فراہم کیں۔ یہ ایک نوعیت کا احیائے علوم تھا۔ جو علوم پہلے موجود تھے، ان میں زندگی آئی۔ نئے علوم دریافت ہوئے۔ علوم سے متعلق لوگوں کا زاویہ نظر بدلہ۔ پہلے کلیسا جس چیز پر مہر ثبت کر دیتا تھا، وہی مستند قرار پاتی تھی۔ اب انسان نے اپنے تجربے اور مشاہدے سے چیزوں کو دوسرے زاویوں سے دیکھنا شروع کیا۔

ایک لمبے عرصے تک ارسطو کی منطق استخراجیہ ( Deductive logic) کا بہت غلبہ رہا۔ پھر لوگوں نے استقرا کے ذریعے سے بہت سے علوم و فنون میں بعض انکشافات کرنا شروع کیے، جس کے اثرات زندگی، تہذیب و تمدن اور معیشت و معاشرت پر پڑنا شروع ہو گئے۔ اس کے بعدسائنسی انقلاب آیا۔ زرعی دور ختم ہو گیا، Feudal system ختم ہو گیا، جمہوریت وجود میں آ گئی، صنعتی انقلاب آ گیا۔ اور اب ہمارے دیکھتے دیکھتے ٹیکنالوجی کا ایک عظیم سیلاب ہے، جو ہر طرف نظر آ رہا ہے، اس کے اثرات ملکوں کی معیشت ، معاشرت ، مواصلات، غرض ہر شعبے پر پڑے ہیں۔ لوگوں کے ایک دوسروں سے سیکھنے کے اطوار اور انداز تبدیل ہو گئے۔ یونیورسٹیاں وجود میں آئیں، جن کے پڑھنے پڑھانے کے طریقے بالکل تبدیل ہوئے۔ اور پھر اس کے بعد نئے سے نئے اسلحے وجود میں آنے لگ گئے۔ یہ وہ سارا پس منظر ہے جس میں دنیا تبدیل ہو گئی۔ اس وقت آپ ایک تبدیل شدہ دنیا کو دیکھتے ہیں۔ مسلمان اس دور میں شریک ہی نہیں ہو سکے اور اس میں پیچھے رہ گئے۔یعنی جب دنیا کے اندر یہ سب کچھ ہو رہا تھا ، وہ اس سے بالکل بے تعلق تھے۔ اگر مغلوں کے آخری زمانے، صفوی خاندان اور سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کہیں سوئے ہوئے ہیں۔ ان کو اس کا احساس ہی نہیں کہ دنیا میں کیا ہونے والا ہے۔ ہمیں بھی Reformation کی ضرورت تھی۔اس لحاظ سے نہیں کہ ہمارے پاس جو مذہب ، اس میں کسی اصلاح کی گنجایش پیدا ہو گئی تھی۔ ہمارے پاس تو خدا کا دین تھا، جو بالکل آخری صورت میں ہمیں دیا گیا تھا، لیکن اس دین کو انسانوں نے وقتاً فوقتاً سمجھا تھا، اس کی بنیاد پر ایک فقہ وجود میں آئی تھی۔ کچھ تصورات قائم ہو گئے تھے۔کلچر کا بھی اس پر کسی حد تک اثر ہو گیا تھا۔ ہمیں Reformation کی ضرورت دراصل اس انسانی کام کے بارے میں تھی۔ ہمیں بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ ہم طبعی علوم کی طرف رجوع کرتے، کیونکہ ایک لمبے عرصے سے ہمارے ہاں لوگوں کی زیادہ دلچسپی ما بعد الطبیعیات( Metaphysics) سے رہی۔ فلسفہ آیا تو اس میں بھی یہ علوم ہمارے ہاں زیادہ دلچسپی کا باعث بنے۔ تصوف اور علم کلام میں بھی یہی چیزیں زیر بحث رہیں۔ اس کے نتیجے میں طبعی علوم سے ہماری وہ مناسبت نہیں ہو سکی، جو کہ اصل میں ہونی چاہیے تھی۔

ہمارے ہاں عام طور پر طبعی علوم کے ماہر بڑے لوگ نہیں سمجھے جاتے تھے۔ فلسفے ، تصوف، شاعری اور ادب کے بڑے لوگ ہمارے ہاں زیادہ نمایاں ہوتے تھے۔ ایک خاص نوعیت کے پس منظر میں ہمارے ہاں بڑے لوگ پیدا ہوتے رہے۔ قرآن مجید ہمارے دینی علوم میںمحور و مرکز کے مقام پر نہیں رہا۔ قرآن مجید ہمیں بہت کچھ دے سکتا تھا، یعنی ایک طرف تو وہ ہمیں خدا کی طرف سے آنے والی ہدایت دیتا ، جو ہمارے لیے ابدی ہدایت ہے، دوسری طرف وہ رویہ (Attitude) دیتا کہ ہم اوہام کے بارے میں کیا رویہ اختیار کریں، ہم طبعی علوم کے بارے میں کیا روش اختیار کریں۔ کائنات کے بارے میں ہمارا زاویہ نظر کیا ہونا چاہیے۔یہ چیزیں بھی قرآن مجید سے بے پروائی کی وجہ سے ہمارے ہاں قابلِ توجہ نہیں رہیں۔ پھر اسرائیلیات کا ایک طوفان تفسیروں میں در آیا۔ اور اس کے نتیجے میں وہاں بھی فقہی اور کلامی موشگافیوں کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ قرآن کوہمارے ہاںایک زندہ کتاب کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے تھا ، ہماری اپنی کوتاہی کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ قرآن تو ایک کتابِ زندہ ہے جو ایک دوسرے جہان کی ہمیں خبر دیتی ہے۔اس کی حکمت لا زوال ہے۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود مسلمان اس کتابِ زندہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ یہ چیز ہمیں مذہبی لحاظ سے ایک محکم جگہ پر کھڑا کر سکتی تھی، ہمارے امتیاز کو قائم کر سکتی تھی، دنیا بھر کے لیے ہمیں روشنی کا منارہ بنا سکتی تھی، ہم اس سے بھی محروم ہوئے اور طبعی علوم سے بھی۔ یہ دونوں وجہیں ہیں جو مل کر ہمارے زوال کا باعث بن گئی ہیں۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author