مشکل ختم کرنے کے لیے تسبیحات

سوال:

ہر قسم کی مشکل ختم کرنے کے لیے کچھ پڑھنے کا بتائیے۔ استغفراللہ کی تسبیح دن اور رات میں کئی بار پڑھتا ہوں۔ تسبیح کی نماز کا بتائیے کہ اس کو پڑھنے سے بھی پریشانیاں ختم ہوتی ہیں؟

میرا مسئلہ رزق میں تنگی کا ہے رزق میں فراخی اور خوشحالی کے لیے گائیڈ کر دیں۔


جواب:

آپ کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ مالی پریشانی کئی طرح کی پریشانیوں کی جڑ ہے۔ اس لیے اس کا حل ہونا ضروری ہے۔

آپ ذرا تصور کیجیے کہ حضور کے زمانے میں اگر حضور سے یہی سوال کیا گیا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کیا جواب دیتے۔ آپ کی سیرت کی کسی بھی کتاب میں ہمیں کسی طرح کا وظیفہ بتانے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ بہت غور طلب بات ہے۔ حدیث کا مستند ذخیرہ ہو یا قران مجید کی 114 سورتیں ہمیں اس طرح کی کوئی ‏چیز کیوں نہیں ملتی۔

اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ طریقہ کہ اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے کوئی وظیفہ کیا جائے اس کا کوئی تعلق قرآن وسنت سے نہیں ہے۔

یہ اگر کوئی علم ہے تو بعد میں دریافت ہوا ہے۔ ہم لوگ قرآن وسنت کی روشنی میں دین بیان کرتے ہیں۔ لہذا ہمارا اس طرح کے فنون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قرآن و حدیث سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو ارادہ و عمل کی آزادی دی ہے۔ اس کا لازمی تقاضا تھا کہ انسانی زندگی میں نتائج کو سعی و جہد پر منحصر کر دیا جائے۔ اس میں معاش بھی شامل ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں اصل الاصول یہ ہے کہ ہم اپنی سعی کی خامیوں کا جائزہ لیں اور اس کو اپنے امکان کی حد تک بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کریں۔

لیکن یہ کوشش اپنی کامیابی کے لیے بہت سے موافق امکانات کی محتاج ہے۔ یہ امکانات دیکھے بھی ہیں اور ان دیکھے بھی ہیں۔ یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں کہ اپنے بل پر انھیں میسر کر سکے اس کے لیے صرف دعا کا راستہ ہے۔

چنانچہ میں آپ کو بھی یہی تجویز کروں گا کہ آپ اپنی سعی کا جائزہ لیں اس میں وہ کمیاں جو آپ اپنی محنت اور عمل سے دور کر سکتے ہیں انھیں دور کریں اور ان کے کامیاب ہونے کے اللہ سے دعا کریں۔

جو لوگ اللہ کے ساتھ بندگی، شکر اور صبر کے ذریعے جڑے رہتے ہیں اور بندوں کے ساتھ احسان کا رویہ رکھتے ہیں اللہ ان کی غیب سے مدد کرتا ہے اور ان کے معاملات عزت سے انجام پاتے رہتے ہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author