متعہ اور مسیار میں فرق

سوال:

چند سوالات عرض ہیں۔اول یہ کہ کیا یہ سچ ہے کہ قرآن مجید میں سورہ نساء میں یہ کہا گیا ہے کہ متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؟ دوم یہ کہ کیا یہ سچ ہے کہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کی بیٹی اسماء رضی اللہ عنہانے بھی متعہ کیا تھا۔ مزید یہ کہ متعہ اور مسیار میں کیا فرق ہے۔ برائے مہربانی تفصیلی جواب دیں۔


جواب:

آپ کے سوالات کے جواب حسبِ ذیل ہیں:

١۔ متعہ جن اصطلاحی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے یعنی ایک عورت اپنا جسم کسی مرد کو کچھ پیسوں کے عوض ایک مقررہ مدت تک استعمال کرنے کی اجازت دیدے۔ اس میں اور زنا میں عملاً کوئی فرق نہیں ہے۔ اس لیے اس بات کا کوئی سوال ہی نہیں کہ قرآن مجید ایسی کسی بیہودہ چیز کو جائز قراردے۔ سورہ نساء کی جس آیت (نمبر 24) کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے اس میں تو صرف یہ بات بیان کی گئی ہے کہ کچھ مخصوص محرم خواتین کے سوا تمام خواتین سے نکاح جائز ہے۔ شرط یہ ہے کہ انسان پاک دامن ہو اور وہ اُن خواتین کا مہر ادا کردے۔ اور اگر پہلے مہر ادا نہیں کیا تو قرآنِ کریم کی اس بیانِ شرط کے بعد وہ سارے لوگ مہر ادا کردیں جنہوں نے اپنی بیویوں سے فائدہ اٹھایا ہو اور ابھی تک مہر نہیں دیا۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ قرآنِ مجید یہاں نکاح کی بات کررہا ہے جو مستقل رفاقت کا ایک علانیہ تعلق ہوتا ہے نہ کہ متعہ کا، وہ تعلق جو کہ چند گھنٹوں، دنوں یا ہفتوں کے لیے قائم کیا جاتا ہے اور جس کا مقصد خاندان کی تشکیل کے بجائے صرف اپنی حیوانیت کی تسکین ہوتا ہے۔

٢۔ حضرت اسما رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ کی بہن تھیں۔اس حیثیت میں وہ رسول کریم کی بھی بہن ہوئيں۔اب جو لوگ رسول اللہ کی بہن کی طرف یہ بیہودہ چیز منسوب کریں، ان کے ایما ن کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ تاہم اگر یہ حسن ظن رکھ لیا جائے کہ وہ لوگ متعہ کو کوئی اچھی چیز سمجھتے ہیں تو بہتر یہ ہوگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کی بہن پر یہ بہتا ن لگانے کے بجائے یہ سوال ذرا اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے حوالے سے اپنے سامنے رکھیں کہ اگر ان سے کوئی یہ پوچھے کہ آپ نے اپنی کس بہن اور بیٹی کو متعہ کے کام پر لگا رکھا ہے تو وہ کیا محسوس کریں گے اور کتنے فخر کے ساتھ لوگوں کو یہ بات بتائےں گے کہ ان کی دو یا تین بہنیں چند پیسوں کے خاطر دو گھنٹے، دو دن یا دو ہفتے کے لیے کسی سے متعہ کا تعلق قائم کرتی ہیں۔

٣۔ متعہ ہر حال میں زنا ہے جبکہ 'مسیار' نکاح ہی ہوتا ہے لیکن اس میں شوہر بیوی کی مالی ذمہ داریاں نہیں اٹھاتا اور بیوی اُسے ان تمام پابندیوں سے اپنی رضامندی سے آزا کردیتی ہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author