مزار پر دعا

سوال:

ہمیں بزرگوں کے مزاروں پر جا کر کیا کہنا چاہیے اور کس طرح سے دعا کرنی چاہیے؟


جواب:

پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں کسی بزرگ کے مزار پر کسی مشرکانہ عقیدے کے ساتھ ہرگز نہیں جانا چاہیے، ورنہ ہم اپنے عقیدے ہی کی خرابی کی بنا پر خدا کے ہاں سخت سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔ مشرکانہ عقیدے سے ہماری مراد یہ ہے کہ آدمی کسی قبر والے بزرگ کے بارے میں کوئی ایسا خیال رکھے جس کی بنیاد قرآن و سنت میں موجود نہ ہو۔ مثلاً، یہ کہ ان سے دعا مانگی جاسکتی ہے، یہ حاجتیں پوری کرتے ہیں ، یہ بگڑی بنا دیتے ہیں ، ان سے مدد لی جا سکتی ہے، یہ ہمارے حالات سے واقف ہو جاتے ہیں، ہم جہاں کہیں سے انھیں پکاریں، یہ ہماری پکار سن لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

دوسری بات یہ ہے کہ بزرگوں کی قبر پر جا کر خدا سے ان کی مغفرت اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author