مزارعت

سوال:

کیا ایک زرعی زمین کا مالک کسی دوسرے کے پاس اپنی زمین(بٹائی کے طورپر) کاشت کے لیے رکھ سکتا ہے؟ حضرت امام ابو حنیفہؓ نے اس عمل کے خلاف فتویٰ دیا تھا لیکن بعد میں ان کے ایک شاگرد امام یوسف نے اسے منسوخ کر دیا ہے۔ کیا آپ زمینی تنازعات پرکچھ روشنی ڈال سکتے ہیں؟


جواب:

مزارعت یعنی بٹائی پر معاملہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا مالک کسی دوسرے آدمی کو اپنی زمین کا شت کے لیے دے دے اور دونوں آپس میں یہ طے کرلیں کہ مثال کے طور پر فصل کا ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف حصہ زمین کے کرایے کے طور پر زمین کے مالک کو ملے گا جبکہ باقی فصل کاشت کرنے والے کی ہوگی۔ امام ابو حنیفہ اس معاملے کو جائز قرار نہیں دیتے۔ امام محمد نے ان کا استدلال یہ ذکر کیا ہے کہ یہ 'مخابرہ' ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ (موطا، ٣/٣١٢)

'مخابرہ' یعنی بٹائی پرزمین دینے کی ممانعت سے متعلق چند احادیث حسب ذیل ہیں:

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم اپنی زمین کاشت کے لیے دوسرے لوگوں کو دیا کرتے تھے اور ان سے کرایے کے طورپر فصل کا تیسرا یا چوتھا حصہ یا معین مقدار میںغلہ وصول کیا کرتے تھے۔ ایک دن میرے ایک چچا آئے اور انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننا زیادہ فائدے کی بات ہے:

نهانا ان نحاقل بالارض فنکريها علی الثلث والربع والطعام المسمی وامر رب الارض ان يزرعها او يزرعها وکره کراء ها وما سوی ذلك (مسلم، ٢٨٨٥)

''آپ نے ہمیں ا سے منع فرمایا ہے کہ ہم زمین بٹائی پر دے کر فصل کے ایک تہائی یا چوتھائی یا معین مقدار میں غلے کی صورت میں کرایہ وصول کریں۔ آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ یا تو خود زمین کو کاشت کرے یا کسی کو کاشت کے لیے دے دے۔ آپ نے زمین کا کرایہ لینے اور اس کے علاوہ کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کو ناپسند کیا ہے۔''

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لوگ ایک تہائی، ایک چوتھائی یا آدھی فصل کے عوض اپنی زمینیں کرایے پردے دیا کرتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من کانت له ارض فليزرعها فان لم يستطع ان يزرعها وعجز عنها فليمنحها اخاه المسلم ولا يواجرها اياه (مسلم، ٢٨٦٥)

''جس شخص کے پاس کچھ زمین ہو تو اسے چاہیے کہ اس کو خود کاشت کرے۔ اگر خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے دے (کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے)، لیکن زمین کو کرایے پر نہ دے۔''

اس معاملے کے عدم جواز پر امام ابوحنیفہ نے مزید برآں یہ قیاسی استدلال بھی پیش کیا ہے کہ اس صورت میں زمین کا کرایہ فصل کے ایک حصے کو قرار دیا جاتا ہے، جبکہ یہ بات یقینی نہیں کہ فصل ہوگی بھی یا نہیں اور اگر ہوگی تو کتنی ہوگی۔ (الشیبانی، المبسوط ٤/٤١) گویا کرایے کی مقدار متعین طور پر معلوم نہیں اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ فصل نہ ہونے کی صورت میں زمین کا مالک سرے سے کرایے سے ہی محروم رہ جائے۔ چنانچہ اگر یہ خرابی دور کر دی جائے اور کرایے کو فصل کے ساتھ مشروط کرنے کے بجائے الگ سے سونے یا چاندی کی صورت میں کرایہ طے کر لیا جائے تو یہ معاملہ درست قرار پائے گا۔ (موطا، ٣/٣٠٨)

مزارعت سے ممانعت کی انھی احادیث کی بنیاد پر بعض صحابہ اور تابعین، جن میں رافع بن خدیج اور ابراہیم نخعی شامل ہیں، اس معاملے کے درست نہ ہونے کے قائل رہے ہیں۔ عبد اللہ بن عمر پہلے جواز کے قائل اور اس پر عامل تھے، تاہم رافع بن خدیج کی روایت علم میں آنے کے بعد انھوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ (مسلم، ٢٨٨١) امام ابو حنیفہ اور دیگر ائمہ نے بھی اسی تناظر میں اس کے عدم جوا ز کا فتویٰ دیا ہے، البتہ اس راے سے علمی اختلاف یقینا کیا جا سکتا ہے اور جمہور صحابہ وتابعین کی راے یہ ہے کہ مزارعت یعنی بٹائی پر معاملہ کرنا جائز ہے، حتیٰ کہ خود امام ابو حنیفہ کے تلامذہ میں سے امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ نے بھی اپنی اسی پر فتویٰ دیا ہے۔

اصل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت کی فقہی علت اور حکم کے پس منظر اور نوعیت کے حوالے سے روایات سے کوئی بالکل واضح اور صریح بات سامنے نہیں آتی اور خود صحابہ کے ہاں اس کی تعبیر وتشریح کے ضمن میں مختلف زاویہ ہاے نظر پائے جاتے ہیں۔ بعض روایات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بٹائی پر زمین دینے کے معاملے میں فی نفسہ خرابی پائی جاتی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی تناظرمیں اس کو ممنوع قرار دیا۔ چنانچہ رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں جب یہ بات آئی کہ ایک شخص نے دوسرے کی زمین اپنے خرچ پر کاشت کی ہے اور فصل دونوں کے مابین برابر تقسیم ہوگی تو آپ نے فرمایا:

اربيتما فرد الارض علی اهلها وخذ نفقتك (ابوداؤد، ٢٩٥٣)

''تم دونوں سود میں ملوث ہو گئے ہو۔ زمین اس کے مالک کو واپس کر دو اور اپنا خرچ اس سے لے لو۔''

جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:

من لم يذر المخابرة فلياذن بحرب من الله ورسوله (ابوداؤد، ٢٩٥٧)

''جس نے مخابرہ کو ترک نہ کیا، وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لے۔''

اس کے برعکس بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ہدایت کا مقصد تشریعی نوعیت کی کوئی پابندی عائد کرنا نہیں بلکہ محض ایک اخلاقی نصیحت کرنا تھا۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے یہی تھی اور وہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت دے دے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے کوئی متعین معاوضہ وصول کرے۔ (مسلم، ٢٨٩٤)

بعض دوسری روایات سے اس ارشاد کا پس منظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں لوگوں کے مابین کثرت سے جھگڑے رونما ہو جاتے تھے۔ چونکہ فصل کی متوقع مقدار کا حقیقی یا اس سے قریب قریب اندازہ کرنا پیشگی طورپر ناممکن تھا جبکہ زمین کے مالک کے ساتھ ایک تہائی یاایک چوتھائی فصل بطور کرایے کے دینا طے کیا جا تا تھا، اس لیے اگر فصل کی مقدار توقع سے کم یا زیادہ ہوتی تو یا تو مالک اپنے حصے میں آنے والے حصے کو کم محسوس کرتے ہوئے اس پر راضی نہ ہوتا اور یا کاشت کرنے والے طے شدہ حصہ مالک کو دینے میں اپنا نقصان محسوس کرتا اور اس طرح جھگڑے کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اس طرح کے جھگڑے کثرت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے تو آپ نے لوگوں کو اس طرح کا معاملہ کرنے سے روک دیا۔ رافع بن خدیج روایت کرتے ہیں :

انما کان الناس يواجرون علی عهد النبی صلی الله عليه وسلم علی الماذيانات واقبال الجداول واشياء من الزرع فيهلك هذا ويسلم هذا ويسلم هذا ويهلك هذا فلم يکن للناس کراء الا هذا فلذلك زجر عنه فاما شئ معلوم مضمون فلا باس به (مسلم، ٢٨٨٨)

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ اپنی زمین کسی دوسرے کو کاشت کے لیے دیتے تھے اور یہ شرط لگا لیتے تھے کہ پانی کی نہروں اور نالیوں کے قریب واقع قطعہ زمین پر (جہاں قدرتی طور پر فصل اچھی ہوتی ہے) پیدا ہونے والی فصل یا فصل کی اتنی معین مقدار ان کی ہوگی۔ پھر یہ ہوتا کہ کبھی زمین کے اس حصے میں فصل صحیح آجاتی اور دوسرے حصے کی فصل خراب ہوجاتی اور کبھی اس حصے کا نقصان ہو جاتا اور دوسرے حصے میں اچھی فصل ہوتی۔ اس وقت زمین کا کرایہ لینے کا بس یہی طریقہ رائج تھا، اس لیے اس سے منع کر دیا گیا۔ البتہ اگر کوئی متعین مقدار معاوضے کے طور پر طے کی جائے جس کو ادا کرنا بھی یقینی طور پر ممکن ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت کو مطلق ماننے کے بجائے اس کو بعض مخصوص صورتوں تک محدود ماننے کی رائے رافع بن خدیج (بخاری، ٢١٧٦)، زید بن ثابت ( ابو داؤد،٢٩٤٢)، عبد اللہ بن عباسؓ (بخاری، ٢١٦٢)، سالم بن عبد اللہ (موطا امام مالک، )اور لیث بن سعد (بخاری، ٢١٧٦) نے بھی اختیار کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بکثر ت صحابہ کرام سے بٹائی پر معاملہ کرنا ثابت ہے۔

اہل خیبر کے ساتھ مزارعت کے معاملے کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کے مابین بھی اس معاملے کی اجازت دی تھی۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب مہاجرین مدینہ منور ہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور انصار کے مابین مواخات کا رشتہ قائم کیا تو انصار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کی زمینوں کو تقسیم کر کے نصف زمینیں مہاجرین کو دے دی جائیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو رد کر دیا۔ اس پر انصار نے کہا کہ پھر باغات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مہاجرین اٹھا لیں اور ہم انھیں فصل میں حصے دار ٹھہرا لیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقے کو درست قرار دے دیا۔ (بخاری، ٢١٥٧)

answered by: Ammar Nasir

About the Author

Ammar Khan Nasir


Mr Ammar Khan Nasir was born in December 1975 to a renowned religious and scholarly family in the town of Gakhar Gujranwala, Pakistan. His grandfather Mawlana Muhammad Sarfaraz Khan Safdar is considered the academic voice of the Deobandi School in the country. His father, Mawlana Zahid al-Rashidi, is a famous religious scholar known for his sound and balanced religious approach.

Mr Ammar Khan Nasir obtained his elementary religious education in Madrasa Anwar al-Uloom Gujranwala. He obtained Shahada Alamiyyah from Madrasa Nusrat al-Uloom Gujranwala in 1994. Then he started pursuing conventional studies and obtained Masters Degree in English Literature from the University of the Punjab in 2001. He has worked as Assistant Editor of the Monthly Al-Shari’ah published from Gujranwala from 1989 to 2000. Since then he has been serving as the Editor of the journal. He taught the Dars-e Nizami course at Nusrat al-Uloom from 1996 to 2006. He joined GIFT University Gujranwala in 2006 where he teaches Arabic and Islamic Studies to graduate and MPhil classes.

Mr Ammar Khan Nasir has many academic works to his credit. His first work, “Imam Abū Hanifa and Amal bil Hadith” (Imam Abū Hanifa and Adherence of Hadith) appeared in print in 1996. In 2007 he academically reviewed the recommendations of the Council of Islamic Ideology, Government of Pakistan, regarding Islamic Punishments. His research on the issue was later compiled and published by Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, Lahore entitled “Hudood-o Ta’zeeraat, Chand Aham Mabahis” (Discussions on Islamic Penal Code). His other research works include Masjid Aqsa ki Tarikh awr Haq-e Tawalliyat (History of the Sacred Mosque in Jerusalem and the Question of its Guardianship) and Jihad. His research articles on variety of religious issues continue appearing in the Monthly Ishraq Lahore, Monthly Al-Shari’ah, Gujranwala and Monthly Nusrat al-Uloom Gujranwala.

Mr Ammar Khan Nasir was introduced to Javed Ahmad Ghamidi in 1990. Since then he has been under his informal tutelage. In 2003 he joined al-Mawrid. He plans to work on and study and do research on the Farahi School from different academic angles. His works and articles can at accessed on http://www.al-mawrid.org, the official site of Al-Mawrid and at his personal site http://www.ammarnasir.org.