نیل پالش اور وضو

سوال:

ہم کینیڈا میں رہتے ہیں۔ میری بیوی یہ جاننا چاہتیں ہیں کہ آیا نیل پالش کا استعمال جائز ہے یا ناجائز؟


جواب:

آپ کی اہلیہ نے جو سوال پوچھا ہے اس کا سادہ جواب تو یہ ہے کہ نیل پالش خواتین کی زینت کی ایک چیز ہے ۔اللہ تعالیٰ نے خواتین کے لیے زینت کو ممنوع قرار نہیں دیا ، بلکہ کچھ حدود و قیود کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے ۔اس لیے خواتین بلا تکلف نیل پالش کا استعمال کرسکتی ہیں۔ تاہم عام طور پر خواتین جب نیل پالش سے متعلق سوال کرتی ہیں تو ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ آیا نیل پالش لگا کر وضو ہوجاتا ہے؟ ہمارے خیال میں آپ کی اہلیہ نے اصلاً یہی بات دریافت کی ہے۔

اس حوالے سے ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ نیل پالش لگا کر وضو نہیں ہوتا کیونکہ نیل پالش کی وجہ سے ناخنوں تک پانی نہیں پہنچتا ۔ اس لیے نیل پالش لگا نے کے بعد اگر وضو ٹوٹ جائے تو اس کے ساتھ نہ وضو ہو گا اور نہ نماز ہو گی۔

تاہم اس معاملے میں ہمارا نقطۂ نظر ذرا مختلف ہے ۔ وضو بلاشبہ نماز کے شرائط میں سے ہے اور اس کے لیے بعض دیگر اعضا کے ساتھ ساتھ ہاتھ دھونا بھی لازمی ہیں۔ لیکن وضو اور غسل میں بعض رعایتیں خود اللہ تعالیٰ نے دی ہیں ۔ مثلاً کسی عذر کی بنا پر غسل اور وضو کی جگہ تیمم کیا جا سکتا ہے۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مردو خواتین دونوں کو کچھ رعایتیں دی ہیں ۔ان کی تفصیل کرتے ہوئے استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں :

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے اسی حکم پرقیاس کرتے ہوئے موزوں اورعمامے پرمسح کیا(بخاری ، رقم 199، 200، 203 اورمسلم ، رقم272، 275) اورلوگوں کواجازت دی ہے کہ اگرموزے وضوکر کے پہنے ہوں توان کے مقیم ایک شب وروز اورمسافرتین شب و روز کے لیے موزے اتار کرپاؤں دھونے کے بجائے ان پرمسح کرسکتے ہیں( مسلم، رقم 276)۔ اسی طرح غسل کے معاملے میں یہ رخصت بیان فرمائی ہے کہ عورتوں کے بال اگرگندھے ہوئے ہوں توانھیں کھولے بغیراوپرسے پانی بہالیناہی کافی ہے (مسلم، رقم 330) اورغسل جن چیزوں سے واجب ہوتا ہے ، وہ اگربیماری کی صورت اختیارکر لیں توایک مرتبہ غسل کر لینے کے بعد باقی نمازیں اس کے بغیربھی پڑ ھی جا سکتی ہیں ، (بخاری، رقم300)‘‘

(میزان ، باب قانون عبادات ، نماز کے شرائط ، ص 287)

ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ انھی چیزوں پر قیاس کرتے ہوئے آج خواتین کو یہ رعایت دی جا سکتی ہے کہ ایک دفعہ وضو کر کے نیل پالش لگالیں اور حضور کی دی ہوئی رعایت کے مطاق مسافر ہوں تو تین شب و روز اور مقیم ہوں تو ایک دن اور رات تک نیل پالش کے ساتھ وضو کر کے نماز ادا کرتی رہیں ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author