نسل کا انتساب مرد کی طرف یا عورت کی طرف

سوال:

نسلِ عام طور سے مردوں سے منسوب ہوتی ہے یا چلتی ہے، کیایہ اسلامی رویہ ہے؟


جواب:

یہ کوئی اسلامی رویہ نہیں ہے۔ اس کی واضح مثال سیدنا مسیح علیہ السلام ہیں۔ وہ بن باپ کے پیدا کیے گئے اور مسیح ابن مریم ہو گئے۔ ان کی اگر آگے شادی ہوتی تو کیا ان کی نسل نہ چلتی؟ یہ تو ایک عام روایت ہے۔ اسلام نے اس معاملے میں کوئی قاعدہ ضابطہ بنا کے لوگوں کو پابند نہیں کیا۔ یہ مغرب کی روایت تھی کہ جس میں عورت کی آزادانہ شخصیت تسلیم نہیں کی جاتی تھی۔ یہ بیگم فلاں اور مسز فلاں کا اسلوب اصل میں مغرب کا دیا ہوا ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے بارے میں یا صحابیات کے بارے میں یہ تعبیر اختیار نہیںکی گئی۔ سیدہ اسماء سیدہ اسماء ہی ہیں۔ عرب میں یہ رواج تھا کہ اس میں باپ کا نام لیا جاتا تھا، لیکن پھر ہمیشہ باپ ہی کا نام لیا جاتا تھا اور وہ بیٹے کے بارے میں بھی لیا جاتا تھا اور بیٹی کے بارے میں بھی لیا جاتا تھا۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author