نبی کے لیے نمازتہجد کا حکم

سوال:

قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تہجد کے حکم کے ساتھ 'نَافِلَۃً لَّکَ' کے الفاظ آئے ہیں، جن کا مطلب یہ ہے کہ تہجد آپ کے لیے بھی نفل ہی تھی، لیکن علما نے اسے آپ کے لیے فرض کیوں قرار دیا ہے؟ اور تہجد کے اس حکم کی حکمت کیا تھی؟


جواب:

آپ کا یہ خیال درست نہیں ہے کہ 'نَافِلَۃً لَّکَ' کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہ نماز تمھارے لیے نفل ہے۔ آیت کے زیر بحث الفاظ اور ان کا ترجمہ درج ذیل ہے:

وَمِنَ الَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ.(الاسراء ١٧:٧٩)
''اور رات کے وقت میں تہجد بھی پڑھو، یہ تمھارے لیے مزید براں ہے۔''

مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم اپنی تفسیر ''تدبرقرآن'' میں اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''نافلۃ اصل پر جو شے زائد ہو اس کو کہتے ہیں۔ اس کا استعمال کسی نعمت و رحمت پر زیادتی کے لیے ہوتا ہے، کسی بار اور مصیبت پر زیادتی کے لیے نہیں ہوتا۔ یعنی یہ نماز ان پنجوقتہ نمازوں پر تمھارے لیے مزید ہے۔ 'لک' سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے یہ نماز آپ کے لیے ضروری تھی۔ چنانچہ آپ نے زندگی بھر اس کا اہتمام رکھا۔ نمازوں کے اس اہتمام کی تاکید، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، شیطانی قوتوں کے مقابلہ کے لیے حصول قوت کے مقصد سے تھی۔ اسی مقصد کے لیے یہ تہجد کے اہتمام کی تاکید ہوئی اور اس کی نسبت سے فرمایا گیاکہ 'نَافِلَۃً لَّکَ' یعنی یہ تمھارے لیے مزید کمک کے طور پر ہے جو راہ حق کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے تمھارے صبر و ثبات میں مزید اضافہ کرے گی۔ عام امتیوں کے لیے یہ نماز اگرچہ ضروری نہیں ہے، لیکن جو لوگ شیطانی قوتوں کا مقابلہ کرنے اور حق کو دنیا میں برپا کرنے کے لیے اٹھیںان کے لیے خدا کی نصرت حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ، یہی نماز ہے۔ چنانچہ امت کے صالحین نے جنھوں نے اس دنیا میں دین کی کوئی خدمت کرنے کی توفیق پائی ہے، اس نماز کا ہمیشہ اہتمام رکھا ہے۔''(٤/٥٣١)

پس یہ نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دن رات کی پانچ نمازوں کے علاوہ ایک اضافی نماز تھی، جسے پڑھنا آپ پر اسی طرح لازم تھا جیسے باقی پانچ نمازوں کو پڑھنا لازم تھا اور اس کا حکم شیطانی قوتوں سے مقابلے کے لیے مزید کمک مہیا کرنے کی خاطر دیا گیا تھا۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author