نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ اور تدفین میں تاخیر اور اُس کی وجہ

سوال:

حضور کی وفات کے بعد تین دن تک آپ کی میت پڑی رہی۔ حضرت ابوبکر آئے، نہ حضرت عمر۔آخر یہ کہاں تھے؟


جواب:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رحلت کے موقع جو کچھ ہوا،اُسے اگرسیرت وتاریخ کی کتب کے بیانات کی روشنی میں اور اس عظیم واقعہ کی نزاکت کو اس کے درست پس منظر میں رکھ کر دیکھا اور سمجھاجائے تو مندرجہ بالا سوال کی حقیقت اور اس کا صحیح جواب واضح طور پر سامنے آ جاتا ہے۔سرسری معلوما ت کی بنا پر بہت سے لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں تردد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ حقائق کی روشنی ميں اس طرح کی باتوں کا جائزہ لےنے کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کريم ميں مسلمانوں کے اجتماعی نظام کے متعلق يہ فيصلہ کرديا ہے کہ ان کے معاملات ان کے باہمی مشورے سے طے ہوتے ہيں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

''اور ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے''،(شوریٰ38:42)

اور یہ واقعہ ہے کہ قرآن ِ پاک کا يہ حکم عرب کے اُس قبائلی معاشرہ ميں اترا،جس ميں کسی اجتماعی رياست کا تصور تھااور نہ کسی واحد حاکم اعلیٰ کی کوئی تاريخ ہی پائی جاتی تھی۔اسلام سے قبل ہر قبيلے کا اپنا سردار ہوتا جو اس کے معاملات چلاتاتھا۔ عرب ميں کوئی باقاعدہ رياست تھی اور نہ اس کا کوئی مستقل حکمران تھا۔حتیٰ کہ ام القریٰ مکہ کے مرکزی شہر ميں بھی کوئی حکمران نہ تھا۔وہاں بمشکل تمام ايک ڈھيلا ڈھالا سانظم ِاجتماعی تھا جس ميں قبائلی سردار کسی اجتماعی مسئلے پراکٹھے ہوجاتے اور مل جل کر کوئی فيصلہ کرليتے۔


ايسے ميں اسلام کا ظہور ہوا۔ ہجرت کے بعد مدينہ کی رياست وجود ميں آئی۔حضور نبی کريم فطری طور پر اس رياست کے حکمران تھے۔8ہجر ی تک يہ رياست صرف مدينہ اور اس کے اطراف تک محدود تھی۔پھر فتحِ مکہ کے بعد صرف تين برس ميں يہ رياست پورے عرب ميں پھيل گئی۔يہ وہ عرب تھا جہاں انتشار و اختلاف کے شکار قبائل اور طرح طرح کی عصبيتيں موجود تھيں اور جو پہلی دفعہ کسی ايک حکمران کے ماتحت اکٹھا ہواتھا۔مگر لوگوں کا حضور پر بحيثيت رسول ايمان اور حضور کا سب سے برتر قبيلے يعنی قريش سے تعلق وہ چيز تھا جس نے عرب ميں يہ سياسی انقلاب برپا کرديا۔تاہم حقيقت يہ تھی کہ نئے ايمان لانے والے قبائل ابھی تک اس پورے نظام کے عادی نہيں ہوئے تھے۔


اپنے آخری وقت ميں حضور کو اس صورتحال کا مکمل اندازہ تھا۔ مگر آپ نے اس حوالے سے کوئی بات اس ليے نہيں فرمائی کہ مسلمانو ں کے پاس بہرحال اللہ تعالیٰ کا حکم موجود تھا۔دوسرے حضور کو معلوم تھاکہ آپ نے اس موقع پر اگر لوگوں کو کوئی حکم دے ديا تو وہ تا قيامت سورہ شوریٰ کی مذکورہ بالا آيت کی واحد قابل عمل شکل قرار پائے گی۔يہ بات اُس وقت کے قبائلی دور کے حساب سے تو ٹھيک ہوتی،مگر آنے والے زمانوں ميں جس ميں موجودہ دورکی بالغ رائے دہی کی جمہوری روايت بھی شامل ہے، حکمران کے انتخاب کے ہر دوسرے طريقے کو غير اسلامی بناکر،اسلام کے نا قابل عمل ہونے کا ايک نماياں ثبوت بن جاتی۔يہی سبب ہے کہ حضور کو جب اندازہ ہوگيا کہ رخصت کا وقت قريب ہے تو آپ نے اپنی وفات سے پانچ دن قبل مسجد ِنبوی ميں آخری خطبہ ديا۔ اس خطبے ميں آپ نے مسلمانوں کو آخری وصيتيں کیں، مگرسياسی حکمرانی کے عملی طريقے کے بارے ميں کوئی رہنمائی نہيں کی۔البتہ اُس شخص کی طرف اشارہ کرديا جو آپ کی نظر ميں اس منصب کا سب سے بڑھ کر اہل تھا۔ چنانچہ اس موقع پر آپ نے دےن اور اپنی رفاقت کے حوالے سے حضرت ابوبکر کی خدمات گنوائیں اورحکم ديا کہ مسجد نبوی ميں ان کے دروازے کے سوا ہر دروازہ بند کرديا جائے(بخاری ومسلم)۔اگلے دن سے اپنی جگہ حضرت ابوبکر کو مسجد نبوی کی امامت سونپ کر اپنا منشا لوگوں پر مزيد واضح کرديا۔(بخاری ومسلم)۔


چار دن بعد پير کے دن ظہر سے قبل حضور کا انتقال ہوگيا۔مسلمانوں پر اپنے محبوب نبی کے رخصت ہونے کا انتہائی شديد صدمہ تھا۔ مگر اس کے ساتھ دوسری تلخ حقيقت يہ تھی کہ قبائلی عصبيت سے بھرپور عرب کی نئی رياست ميں حکمرانی کا منصب خالی ہوچکا تھا اور کسی جانشين کا ابھی تک تعين نہيں ہوا تھا۔چنانچہ وہی ہوا جو اس پس منظر ميں متوقع تھا۔ انصار کے بعض لوگ سقيفہ بنی ساعدہ ميں اکٹھے ہوکر حضور کی جانشينی کے مسئلے پر گفتگو کرنے لگے۔حضرت ابو بکر جو بلا شک و شبہ اس وقت مسلمانوں کے سب سے بڑے ليڈر تھے، ان سے اس موقع پر اگر معمولی سی بھی کوتاہی ہوجاتی تو اسلام کی تاريخ بننے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی۔ان حالات ميں حضرت ابو بکر حضور کے انتقال کی خبر سن کر سيدھے مسجد نبوی تشريف لائے اور ان شاندا ر الفاظ سے مسلمانوں کا حوصلہ بلند کيا کہ '' جو محمدصلی اللہ عليہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ ان کا انتقال ہوگياہے اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو وہ جان لے کہ اللہ ہميشہ زندہ رہنے والا ہے کبھی نہيں مرے گا''،(بخاری 640/2641)۔ اس کے ساتھ ان پر يہ ذمہ داری بھی آن پڑی کہ وہ مسلمانوں کی رہنمائی کريں۔ چنانچہ وہ حضرت عمر اور حضرت ابو عبيدہ بن جراح جيسے اہم قريشی سرداروں کو لے کر انصارکے ہاں گئے اور ايک طويل بحث و گفتگو کے بعد حضور کے بعض ارشادات کی روشنی ميں انصار کو اس بات پر قائل کرنے ميں کامياب ہوگئے کہ خليفہ قريش ميں سے ہونا چاہيے۔اس کے بعد ہر شخص کو معلوم تھا کہ قريشی مسلمانوں ميں سب سے بڑا ليڈر کون ہے۔چنانچہ حضرت عمر نے ان کا نام تجويز کيا جسے سب نے فوراََتسليم کرليا۔يوں رياست مدينہ ميں انتشار کا خطرہ ٹل گيا۔اُسی پیر کی رات تک اس نازک ترین معاملہ کو حسن وخوبی کے ساتھ نمٹانے کے بعد اگلے دن منگل کو صحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا اور آپ کی تجہیز وتکفین کی۔ سيدنا علی رضی اللہ عنہ اور ديگر قريبی اعزا نے آپ کے غسل اور تجہیز وتکفین کے فرائض انجام دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے حسب ِارشاد آپ کی قبر آپ کی وفات کی جگہ پر ہی بنائی جانی تھی۔ اس ليے تدفين اور نماز ِجنازہ کے ليے کہيں اور جانے کا سوال نہيں تھا۔چنانچہ تمام اہل مدینہ نے گروہ در گروہ آکر سيدہ عائشہ کے اس حجرے ہی ميں نماز جنازہ ادا کی جہاں آپ کا انتقال ہوا تھا۔اوراس طرح نماز ادا کرنے ميں منگل کا پورا دن صرف ہوا۔ اورپھر رات کے درميانی اوقات ميں حضرت عائشہ کے حجرے ميں حضور کی تدفين عمل ميں آئی۔غور کیا جائے توآپ کی وفات کے بعد ان تمام معاملات کو نمٹانے میں کل دو دن صرف ہوئے ہیں،نہ کہ تین دن۔


اوريہ ہے وہ بات جس کا افسانہ بناکر ہمارے بعض مسلمان بھائی اسلام،اس کے نبی اور ان کے بہترين پيروکاروں کے بارے ميں ايسے سوالات پيدا کرديتے ہيں جن کی بنا پر نئی نسل اسلام سے بدظن ہوجاتی ہے اور غيرمسلموں کو ہمارا مذاق اڑانے کا موقع مل جاتا ہے۔جبکہ ہر صاحب علم يہ بات جانتا ہے کہ حضرت ابو بکر کے ابتدائی زمانے ميں خلافت کے قيام اور مہاجرين و انصار اور قريش مکہ کی بھرپور تائيد کے باوجود عرب ميں ايک زبردست بغاوت رونما ہوا۔اندازہ کيجيے کہ اگر حضور کے انتقال کے وقت حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فوری فيصلہ کرکے نزاع کو ابتدا ہی ميں ختم نہ کرتے اور اہل مدينہ ميں باہمی انتشار پيدا ہوجاتا تو مسلمانوں کا کيا انجام ہوتا؟


بلاشبہ صحابہ کرام وہ لوگ ہيں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی رفاقت کا حق اس طرح ادا کيا کہ قرآن ِمجيد نے بھی جگہ جگہ ان کے اخلاص اور قربانی کی گواہی دی ہے۔ قرآن ِکريم کی اس گواہی کے بعد ان لوگوں کی صداقت کے ليے کسی اور گواہی کی ضرورت نہيں۔

answered by: Amir Gazdar

About the Author

Answered by this author