نبی اور کتاب

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ کیا سب نبیوں کو اللہ تعالیٰ نے کتاب دی ہے یا نہیں؟ سورہ البقرہ آیت ۲۱۳ سے یہ پتا چلتا ہے کہ سب نبیوں کے ساتھ اللہ نے کتاب بھیجی ہے جس کے مطابق وہ اختلافی امور میں فیصلہ کرتے تھے۔ پھر حضرت ہارون اور حضرت اسماعیل پر کون سی کتاب نازل ہوئی تھی؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

سورہ بقرہ کی آیت 213کے ترجمے سے آپ کا یہ سمجھنا کہ ہر نبی کے ساتھ کتاب نازل ہوئی ، ایک غلط فہمی ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ :ـ''اور ان کے ساتھ اپنی کتاب نازل کی'' سے مراد یہ نہیں کہ ہر ہر نبی کے ساتھ کتاب نازل ہوئی ہو۔ بلکہ مدعا یہ ہے کہ انبیا علےھم السلام کو کتابیں بھی دی گئیں جو اختلافی معاملات میں ان کے بعد ایک ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی تھیں۔ یعنی انبیا کی موجودگی لوگوں کے اختلاف کا فیصلہ کردینے کے لیے بہت تھی۔ مگر ان کے گزرنے کے بعد اختلاف ہونے لگا تو اس کے لیے انبیا کے ساتھ 'الکتاب' کی شکل میں براہ راست آسمانی رہنمائی اتاری گئی تاکہ وہ ان کے بعد بھی اختلافی معاملات میں فیصلہ کن رہنمائی دے سکے، لیکن اس کے باجود لوگوں نے محض باہمی ضدو عناد کے سبب اختلاف جاری رکھا۔ گویا بتانا یہ مقصود نہیں کہ ہر نبی کے ساتھ کتاب اتری بلکہ مقصود یہ بتانا ہے کہ کتاب نبیوں کے ساتھ ہی اتری اس لیے وہ خود ایک مقدس اور فيصلہ کن چیز تھی لیکن لوگوں اس کے باوجود اختلاف جاری رکھا۔

جو بات سورہ بقرہ میں کہی گئی ہے ٹھیک وہی بات سورہ حدید25:57میں بیان ہوئی ہے۔ ان دونوں مقامات پر اللہ تعالیٰ نے کتابوں کے لیے جمع کاصیغہ 'کتب' استعمال کرنے کے بجائے لفظ 'الکتاب' استعمال کرکے اس مفہوم کو کھول دیا جو ہم نے بیان کیا ہے۔

اس پس منظر میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ سیدنا اسماعیل اور ہارون پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی بلکہ حضرت اسماعیل نے صحیفہ ابراہیم اور حضرت ہارون نے تورات جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوئی، اس کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کی۔سورہ بقرہ کی آیت 213کا یہ تقاجض نہیں کہ ہر نبی کی الگ کتاب لازمی مانی جائے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author