نبی رسول کي منادي کرنے والا ہوتا ہے

سوال:

اس دعوي کي دليل قرآن و حديث ميں کہاں ہے کہ 'نبي' رسول کي منادي کرنے والا ہوتا ہے؟


جواب:

نبي کے رسول کا منادي ہونے کے حوالے سے صحيح بات يہ ہے کہ صرف نبي ہي نہيں رسول بھي آيندہ آنے والے پيغمبر کي پيش گوئي کرتا ہے۔ درج ذيل آيات اس پر دلالت کرتي ہيں:

الذين يتبعون الرسول النبي الامي الذي يجدونه مکتوبًا عندهم في التوراة والانجيل

جو پيروي کريں گے ، اس نبي امي رسول کي جسے وہ اپنے ہاں تورات اور انجيل ميں لکھا ہوا پاتے ہيں۔ (الاعراف7: 157)

واذ قال عيسي ابن مريم يا بني اسرائيل اني رسول الله اليکم مصدقًا لما بين يدي من التوراة ومبشرًا برسولٍ ياتي من بعدي اسمه احمد(الصف61: 6

اور ياد کرو جب عيسي ابن مريم نے کہا: اے بني اسرائيل ميں تمھاري طرف اللہ کا بھيجا ہوا رسول ہوں ، ميں تورات کي ان پيش گوئيوں کا مصداق ہوں جو مجھ سے پہلے موجود ہيں اور خوش خبري دينے والا ہوں ايک رسول کي جو ميرے بعد آئے گا ، اس کا نام احمد ہو گا۔

فنادتة الملائکة وهو قائم يصلي في المحراب ان الله يبشرك بيحيـي مصدقًا بکلمة من الله

تو فرشتوں نے اس کو پکار کر کہا ، جب کہ وہ محراب ميں نماز پڑھ رہا تھا کہ اللہ تجھے يحيي کي بشارت ديتا ہے ، جو اللہ کے ايک کلمے کا مصداق (سچائي کا گواہ) ہو گا۔ (آل عمران3: 39

وقفينا علي آثارهم بعيسي ابن مريم مصدقًا لما بين يديه من التوراة (المائده5: 46

اور ہم نے ان کے پيچھے انھي کے نقش قدم پر عيسي ابن مريم کو اپنے سے پہلے موجود تورات کي (پيش گوئيوں) کے مصداق کے طور پر بھيجا۔ قرآن مجيد ميں آنے والے نبي کے بارے ميں مصدقًا (تصديق کرنے والا) کا لفظ اس معنوں ميں آيا ہے کہ وہ اپنے وجود سے پيش گوئيوں کي تصديق کرنے والا ہوتا ہے ، دوسرے لفظوں ميں وہ اپنے سے پہلے موجود پيش گوئيوں کا مصداق ہوتا ، يعني ان کي سچائي کا گواہ ہوتا ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author