نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں مبالغہ

سوال:

ہمارے ہاں بعض مذہبی گروہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں انتہائی مبالغہ کرتے ہیں، آپ براہ مہربانی اس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر بیان فرمائیں۔

ارشاد باری ہے:

قُلْ یٰۤاَہْلَ الْکِتٰبِ لاَ تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعُوْۤا اَہْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ. (المائدہ ٥:٧٧)

 ''کہہ دو، اے اہل کتاب ،اپنے دین میں بے جا غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی بدعات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہوئے اور جنھوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور جو راہ راست سے بھٹک گئے۔''

نیز ارشاد باری ہے :

یٰدَاودُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ الله اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ الله لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ.(ص٣٨:٢٦)

''اے داؤد ،ہم نے زمین میں تجھے اقتدار دیا ہے، پس تو لوگوں کے مابین حق کے ساتھ فیصلہ کرنا اور اپنی خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمھیں اللہ کی راہ سے ہٹا دے، بے شک جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس وجہ سے کہ انھوں نے روز حساب کو بھلائے رکھا۔''

ان دونوں آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین جیسی حق بات میں بھی اگر آدمی غلو کو اختیار کرے تو وہ راہ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ دین میں غلو کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان دین میں اللہ کے بتائے ہوئے اعتدال اور توازن کو بگاڑ دے، مثلاً خدا نے کسی چیز کو جو مقام دیا ہو، انسان اس چیز کو اس سے بڑے مقام پر کھڑا کر دے، جیسا کہ عیسائیوں نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنا دیا یا یہودنے اپنے علما کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا یا عیسائیوں نے رہبانیت کو دین کی اعلیٰ صورت قرار دے دیا، وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں انسان انتہائی خلاف حق بات کہتا اور سخت گمراہ ہو جاتا ہے۔ اس غلو کی وجہ یقینا یہی ہوتی کہ انسان حق کے بجاے اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے۔ چنانچہ وہ حق سے بہت دور نکل جاتا ہے۔


سورۂ ص میں بیان کردہ یہ بات بھی بالکل صحیح ہے کہ انسان خواہش نفس کی پیروی تبھی کرتا ہے جب وہ اپنے روز حساب کو بھلا دیتا ہے، کیونکہ اس کے بعد پھر حق اس کا مسئلہ نہیں رہتا۔


یہ بات درست ہے کہ ہمارے ہاں بعض گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں انتہائی مبالغے سے کام لیتے ہیں، ان کا یہ رویہ سراسر غلط ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں اللہ کا قائم کردہ توازن اور اعتدال بالکل بگڑ جاتا ہے۔


کسی بھی حقیقت کو مبالغے سے بیان کرنا، لوگوں میں بہت سی غلط فہمیوں کا باعث بنتا اور ان کے دین کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ کوئی معمولی جرم ہے،بلکہ یہ بڑا سنگین جرم ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ اس کی پرسش بھی بہت سخت ہو گی، جیسا کہ سورۂ مائدہ کی درج ذیل آیات سے واضح ہے:

وَاِذْ قَالَ الله یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰـہَیْنِ مِنْ دُوْنِ الله قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہ، فَقَدْ عَلِمْتَہ، تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَا اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ. مَا قُلْتُ لَہُمْ اِلاَّ مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖۤ اَنِ اعْبُدُوا الله رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْدٌ. اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ. قَالَ الله ہٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُہُمْ.(٥:١١٦-١١٩)

''اور یاد کرو، جبکہ اللہ پوچھے گا: اے عیسیٰ ابن مریم، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بناؤ۔ وہ جواب دے گا: تو پاک ہے، میرے لیے کیسے روا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہے تو تو اسے جانتا ہے۔ تو جانتا ہے جو کچھ میرے جی میں ہے، پر میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔ غیب کی باتوں کو جاننے والا تو بس تو ہی ہے۔میں نے تو ان سے وہی بات کہی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی۔ اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران رہا اور تو تو ہر چیز پر گواہ ہے ہی۔ اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب اور حکمت والا ہے۔اللہ فرمائے گا آج کے دن سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔''

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بڑے صریح اور واشگاف الفاظ میں ایک جلیل القدر پیغمبر سے یہ سوال کیا ہے کہ اس کی قوم نے اس کے اور اس کی ماں کے بارے میں جو غلو اختیار کیا تھا، کیا خود اس نے انھیں اس کا حکم دیا تھا۔ معلوم ہوا کہ غلو کے اس جرم میں اگر (نعوذ باللہ) اللہ کا پیغمبر بھی شامل ہوتا تو وہ بھی خدا کے سخت عتاب سے ہرگز نہ بچ سکتا۔
چنانچہ یہ بڑی سنگین بات ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ان کے بارے میں وہ بات کہے جو خود اللہ اور اس کے رسول نے نہیں کہی، لہٰذا جو لوگ اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے دین میں اس طرح کا غلو اختیار کریں گے وہ اللہ کی پرسش سے ہرگز نہ بچ سکیں گے۔


البتہ، یہ بات ذہن میں رہے کہ کسی کی تعریف کا وہ شوخ انداز یا وہ ادبی اسلوب دین میں ممنوع نہیں ہے جو اپنے اندر مبالغے کا پہلو تو رکھتا ہے، لیکن وہ کوئی دینی مسئلہ پیدا نہیں کرتا۔


جواب:

ارشاد باری ہے:

''کہہ دو، اے اہل کتاب ،اپنے دین میں بے جا غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی بدعات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہوئے اور جنھوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور جو راہ راست سے بھٹک گئے۔'' (مائدہ 5: 77)

نیز ارشاد باری ہے :

''اے داؤد ،ہم نے زمین میں تجھے اقتدار دیا ہے، پس تو لوگوں کے مابین حق کے ساتھ فیصلہ کرنا اور اپنی خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمھیں اللہ کی راہ سے ہٹا دے، بے شک جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس وجہ سے کہ انھوں نے روز حساب کو بھلائے رکھا۔'' (ص38: 26)

ان دونوں آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین جیسی حق بات میں بھی اگر آدمی غلو کو اختیار کرے تو وہ راہ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ دین میں غلو کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان دین میں اللہ کے بتائے ہوئے اعتدال اور توازن کو بگاڑ دے، مثلاً خدا نے کسی چیز کو جو مقام دیا ہو، انسان اس چیز کو اس سے بڑے مقام پر کھڑا کر دے، جیسا کہ عیسائیوں نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنا دیا یا یہودنے اپنے علما کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا یا عیسائیوں نے رہبانیت کو دین کی اعلیٰ صورت قرار دے دیا، وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں انسان انتہائی خلاف حق بات کہتا اور سخت گمراہ ہو جاتا ہے۔ اس غلو کی وجہ یقینا یہی ہوتی کہ انسان حق کے بجاے اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے۔ چنانچہ وہ حق سے بہت دور نکل جاتا ہے۔


سورۂ ص میں بیان کردہ یہ بات بھی بالکل صحیح ہے کہ انسان خواہش نفس کی پیروی تبھی کرتا ہے جب وہ اپنے روز حساب کو بھلا دیتا ہے، کیونکہ اس کے بعد پھر حق اس کا مسئلہ نہیں رہتا۔


یہ بات درست ہے کہ ہمارے ہاں بعض گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں انتہائی مبالغے سے کام لیتے ہیں، ان کا یہ رویہ سراسر غلط ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں اللہ کا قائم کردہ توازن اور اعتدال بالکل بگڑ جاتا ہے۔


کسی بھی حقیقت کو مبالغے سے بیان کرنا، لوگوں میں بہت سی غلط فہمیوں کا باعث بنتا اور ان کے دین کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ کوئی معمولی جرم ہے،بلکہ یہ بڑا سنگین جرم ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ اس کی پرسش بھی بہت سخت ہو گی، جیسا کہ سورۂ مائدہ کی درج ذیل آیات سے واضح ہے:

''اور یاد کرو، جبکہ اللہ پوچھے گا: اے عیسیٰ ابن مریم، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بناؤ۔ وہ جواب دے گا: تو پاک ہے، میرے لیے کیسے روا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہے تو تو اسے جانتا ہے۔ تو جانتا ہے جو کچھ میرے جی میں ہے، پر میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔ غیب کی باتوں کو جاننے والا تو بس تو ہی ہے۔میں نے تو ان سے وہی بات کہی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی۔ اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران رہا اور تو تو ہر چیز پر گواہ ہے ہی۔ اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب اور حکمت والا ہے۔اللہ فرمائے گا آج کے دن سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔'' (5: 116۔119)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بڑے صریح اور واشگاف الفاظ میں ایک جلیل القدر پیغمبر سے یہ سوال کیا ہے کہ اس کی قوم نے اس کے اور اس کی ماں کے بارے میں جو غلو اختیار کیا تھا، کیا خود اس نے انھیں اس کا حکم دیا تھا۔ معلوم ہوا کہ غلو کے اس جرم میں اگر (نعوذ باللہ) اللہ کا پیغمبر بھی شامل ہوتا تو وہ بھی خدا کے سخت عتاب سے ہرگز نہ بچ سکتا۔
چنانچہ یہ بڑی سنگین بات ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ان کے بارے میں وہ بات کہے جو خود اللہ اور اس کے رسول نے نہیں کہی، لہٰذا جو لوگ اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے دین میں اس طرح کا غلو اختیار کریں گے وہ اللہ کی پرسش سے ہرگز نہ بچ سکیں گے۔


البتہ، یہ بات ذہن میں رہے کہ کسی کی تعریف کا وہ شوخ انداز یا وہ ادبی اسلوب دین میں ممنوع نہیں ہے جو اپنے اندر مبالغے کا پہلو تو رکھتا ہے، لیکن وہ کوئی دینی مسئلہ پیدا نہیں کرتا۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author