نبوت کا دعویٰ

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ کیا خاتم النبیّین حضرت محمد صلی اللہ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا شریعت میں جرم نہیں ہے؟ اگر ہے تو پھر غامدی صاحب کا رویہ احمدی فرقے والوں کے لیے نرم کیوں ہے؟ اور اگر جرم نہیں ہے تو پھر حضرت ابوبکرؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف احتجاج کیوں کیا؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔آپ نے پوچھا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوئ نبوت جرم نہیں ہے۔ پھر غامدی صاحب کا رویہ ان کے بارے میں نرم کیوں ہے؟عرض یہ ہے کہ دعوئ نبوت کے جرم ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ میرے سامنے اس وقت استاد محترم کے الفاظ نہیں ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ انھوں نے دعوئ نبوت کے حوالے سے کوئی رعایت نہیں دی ہوگی۔ انھوں نے ارتداد کی سزا کے حوالے سے یہ کہا ہوگا کہ اب یہ نافذ نہیں ہو گی۔ اس لیے کہ ان کے نزدیک ارتداد کی سزا اس سزائے موت کا لازمی نتیجہ ہے جو سورہ توبہ کے تحت کفار عرب پر نافذ کی گئی تھی اور اس کا بعد کے مرتدین تک امتداد درست نہیں ہے۔ ممکن انھوں نے یہ بھی کہا ہو کہ احمدیوں کے اوپر تشدد کے جو واقعات پیش آئے وہ نامناسب تھے۔ اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ کسی مجرم کو سزا دینے کا حق اصلا ہیئت اجتماعی کا ہے اسے افراد کو تفویض نہیں کیا جا سکتا۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author