نیو جوبلی اسکیم

سوال:

بعض کمپنیوں نے ایسی اسکیمیں جاری کی ہیں جن میں وہ سٹاک مارکیٹ سے Share خریدتے اور بیچتے اور پھر اپنے حصہ داروں کو سالانہ منافع میں سے رقم دیتے ہیں کیا اس طرح کی اسکیم میں حصہ لینا جائز ہے؟


جواب:

آپ نے اسکیم کی جو صورت بتائی ہے، اس کے مطابق چونکہ اس میں جمع کرائی جانے والی رقم پر متعین مدت میں متعین اضافہ کی شرط موجود نہیں ہے، لہٰذا اسے سود قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ، آپ یہ بات ضرور دیکھ لیں کہ ان کمپنیوں والے بینکوں کے شیئرز یا کسی سودی ادارے کے شیئرز پر مبنی کاروبار تو نہیں کر رہے۔ ہماری اس بات کا مطلب یہ ہے کہ کسی سودی کاروبار کرنے والے ادارے کے شیئرز خریدنے سے جو منافع ہو گا، وہ جائز نہیں ہو گا۔ چنانچہ اس پہلو سے آپ ان کمپنیوںوالوں کے کاروبار کو ضرور دیکھ لیں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author