نگران فرشتے

سوال:

سورۂ طارق اور سورۂ رعد میں نگہبان فرشتوں کا ذکرآیا ہے۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ یہ فرشتے انسانوں کو کس قسم کا تحفظ فراہم کرتے ہیں؟


جواب:

آپ نے اپنے سوال میں قرآن کریم کی جن دو آیات کی طرف اشارہ کیا ہے ان میں سے پہلی اس طرح ہے:

شاہدہیں آسمان اور رات میں نمودارہونے والے اورتم کیاسمجھے کہ کیاہیں رات میں نمودارہونے والے !دمکتے ستارے !کہ کوئی جان نہیں کہ اس پر نگہبان نہیں ۔ (طارق1۔4 :86)

ان آیات کے آخری حصے میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جن کے متعلق آپ نے سوال فرمایا ہے ۔ ان کی نگہبانی کی نوعیت کی وضاحت میں مولانا امین احسن اصلاحی اپنی شاہکار تفسیر تدبر قرآن میں اس طرح قلم طراز ہیں :

’’ستاروں کی شہادت اس دعوے پرکہ اللہ تعالیٰ نے ہرجان پرنگران مقررکر رکھے ہیں ایک تواس پہلو سے ہے کہ انسان سوچے کہ جس خداکی مقررکی ہوئی اتنی ان گنت آنکھیں رات بھرجاگتی اورٹکٹکی لگائے زمین والوں کوگھورتی رہتی ہیں کسی کی مجال ہے کہ اس کے دام سے بچ کے نکل سکے ۔سائنس کی ایجاد کردہ بڑ ی سے بڑ ی دوربینوں کے اندربھی وہ طاقت نہیں ہے جوآسمان کے معمولی سے معمولی ستاروں کے اندرہے جن کی روشنی تہ بہ تہ فضاؤں کوچیرتی ہوئی زمین تک پہنچ جاتی ہے ۔جوخدا اپنی قدرت کی یہ شان ہرشب میں ہمیں دکھا رہا ہے اس کے متعلق یہ تصورکہ اس کی نگا ہوں سے کوئی چیز بھی اوجھل رہ سکتی ہے صرف اس شخص کے اندر پیدا ہو سکتا ہے جوعقل سے بالکل عاری ہو۔

دوسراپہلواس کاوہی ہے جس کی طرف ہم سابق سورہ میں بھی اشارہ کر چکے ہیں اورجوقرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے کہ انہی ستاروں کے اندرخدانے ایسے برج بنائے ہیں جہاں سے ان شیاطین پرشہابِ ثاقب کی مارپڑ تی ہے جوخداکے ممنوعہ حدودمیں دراندازی کی جسارت کرتے ہیں۔ قدرت کایہ نظام اس بات پرشاہدہے کہ یہ دنیابے راعی کاگلہ نہیں ہے بلکہ اس کے چپہ چپہ پرخدانے اپنے پہرہ داربٹھارکھے ہیں جوشب وروز ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں ۔اس وجہ سے لازماًاس کے بعدایک یوم الحساب آنا ہے جس کے احتساب سے کوئی بھی اپنے کوبچانہ سکے گا۔‘‘ ، (تدبر9/301۔2)

جیسا کہ آخری دو لائنوں سے یہ بات واضح ہے کہ ان فرشتوں کا کام تحفظ (Protection) کے طور پر نہیں ، بلکہ نگرانی کے طور پر بیان ہورہا ہے ۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسانوں کا سارا کچا چٹھہ کھول کر ان کے سامنے رکھ دیں گے ۔

اس بات کو سمجھنے میں اگر کوئی مشکل ہے تو دوسری آیت میں اسے اللہ تعالیٰ نے بالکل کھول دیا ہے جو سورۂ رعد میں بیان ہوئی ہے ۔ وہاں ارشاد ہوا:

’’وہ غائب و حاضر سب کا جاننے والا، عظیم اور عالی شان ہے ۔اس کے علم میں یکساں ہیں تم میں سے وہ جوبات کوچپکے سے کہیں اوروہ جوبلندآوازسے کہیں اورجوشب کی تاریکی میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن کی روشنی میں نقل وحرکت کر رہے ہوں ۔ان پران کے آگے اورپیچھے سے امرالہٰی کے مؤکل لگے رہتے ہیں جوباری باری سے ان کی نگرانی کرتے ہیں ۔ (رعد13: 9۔11)

دیکھیے یہاں بھی اصل میں اللہ تعالیٰ کے اس علم کا بیان ہے جس کی بنیاد پر وہ انسان کے ہر عمل سے واقف رہتے ہیں ۔ لیکن قیامت کے دن وہ انسانوں کی پکڑ اپنے علم کی بنیاد پر نہیں کریں گے ، بلکہ اس مقصد کے لیے انسانوں پر فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کا ریکارڈ رکھتے ہیں ۔ یہی ریکارڈ کل قیامت کے دن انسانوں کے سامنے پیش ہو گا۔ اور فرشتوں کے اسی کام کو یہاں حفظ و نگرانی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔چنانچہ مولانا اصلاحی تدبر قرآن میں اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں :

’’یہ آیت اوپروالی آیت کے مضمون کی توضیح مزیدہے یعنی اللہ ہرشخص کے ظاہروباطن اوراس کے شب و روز سے پوری طرح آگاہ ہے ۔اس نے ہر شخص پراپنے فرشتے بطورپہرہ دارمقررکر رکھے ہیں ۔یہ فرشتے اللہ کے امرمیں سے ہیں جوہروقت ہرشخص کے ہرقول وفعل کی نگرانی کرتے ہیں ۔‘‘،(تدبر4/274)

سورۂ انفطار میں ان کے لیے ’حافظین ‘ کا لفظ استعمال کر کے ان کا کام یوں بیان کیا گیا ہے :

’’ہر گز نہیں ! بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہوحالانکہ تم پر یقینا نگران مامور ہیں ۔عالی قدر لکھنے والے ۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔‘‘ ، (انفطار82: 9۔12)

سورۂ ق میں یوم قیامت ان فرشتوں کا کردار یوں بیان کیا گیا ہے :

’’(قیامت کے دن) ہر جان اس طرح حاضر ہو گی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہو گا اور ایک گواہ۔‘‘ ، (ق50: 21)

باقی اس میں کوئی شک نہیں کہ بندوں کو تحفظ اور عافیت بھی اللہ تعالیٰ ہی دیتے ہیں اور ہم سب کو اس کی پناہ اور عافیت کا طلب گار ہونا چاہیے ۔لیکن آپ نے جن آیات کا ذکر فرمایا ہے وہاں مراد نگرانی ہے نہ کہ تحفظ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author