نکاح متعہ

سوال:

میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی حرام چیز کی اجازت نہیں دے سکتے اور آپؐ نے سنی فقہا کے مطابق بھی متعہ کی اجازت دی ہے تو بعد میں یہ کس نے حرام کیا؟ اور اگر یہ قیامت تک کے لیے حرام ہے تو کیا نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حرام چیز کی اجازت دی؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔ اور یہ بھی بتائیے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر رضی اللہ عنہ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ادوار میں متعہ ہوتا رہا تھا؟


جواب:

امىد ہے آپ خىرىت سے ہوں گے۔

ہم اہل سنت کے مطابق نکاح متعہ خود نبى اکرم ہى حرام کرکے گئے ہىں۔بے شمار صحىح احادىث سے ىہ معلوم ہوتا ہے کہ نبى اکرم صلى اللہ علىہ وسلم نے متعہ کو حرام کىا ہے۔ اس کے لىے دىکھىے صحىح بخارى حدىث نمبر 4825، مسلم 1407، وغىرہ)حضرت عمر کا معاملہ غالبا خلط مبحث کا شکار ہے ۔ وہ متعہ ىہ نہىں کوئى اور ہے۔ لىکن اس بات کو سمجھنے سے پہلے متعہ کے معنى جاننے ضرورى ہىں ۔

متعہ عربى زبان کالفظ ہے جس کے معنى فاعدہ اٹھانے کے ہىں ، عربى کى معروف لغت المحىط مىں اس کے معنى ىہ لکھے ہوئے ہىں :

المُتْعَةُ : ما يُتمتَّعُ به من الصَّيْد والطعام وغير ذلك؛ ...: أن تَضُمّ عُمْرةً إلى حِجَّة/ زواجِ المتُعة، أي أن تتزوَّج امرأةً تتمتَّعُ بها وقتاً ما ولا تريد إِدامتَها لنفسك/ مُتعةُ المرأة، أي ما وُصلتْ به من مال ونحوه بعد الطلاق ...

متعہ سے مراد وہ فائدہ ہے ، جو شکار اور کھانے وغىرہ سے حاصل ہو، ... متعہ ىہ بھى ہے کہ عمرہ اور حج کو اىک ساتھ اکھٹا کىا جائے۔ متعہ نکاح ىہ ہے کہ اىک مخصوص مدت کے لىے عورت سے بىاہ کىا جائے ، اور اس مىں ىہ ارادہ نہ ہو کہ اسے مستقل اپنے پاس رکھا جائے۔ متعہ کے معنى اس مال وغىرہ کے ہىں، جو طلاق کے بعد (حق مہر کے علاوہ)عورت کو ملتا ہے۔

متعہ کے ىہ سب معنى ہىں۔اس لىے جب ىہ بات کہى جائے کہ حضرت عمر نے متعہ سے منع کىا تو سوال ىہ پىدا ہوتا ہے کہ کونسا متعہ انھوں نے منع کىا۔موقت نکاح والا متعہ ، طلاق کے بعد بىوى کو کچھ دىنے دلانے والا متعہ ىا ىا حج و عمرہ والا متعہ۔فقہ کى کتب کو پڑھ کر دو چىزوں مىں تو واضح ہے ىعنى وہ حج و عمرہ مىں اور بغىر چھوئے طلاق ىافتہ عورت کو متعہ (خرچہ پانى)دىنے کو تو منع کرتے تھے ۔

جہاں تک متعہ والے نکاح کا تعلق ہے ، تو اس مىں مىرى تحقىقى رائے ىہ ہے کہ متعہ دىن اسلام مىں مکى زمانے ہى سے حرام ہے: سورہ مومنون اور سورہ المعارج دونوں مکى ہىں اور دونوں مىں عورت سے بحىثىت بىوى ہى کے تمتع کى اجازت دى گئى ہےاس کے علاوہ کسى اور زوجىت کى اجازت ہى نہىں ہے، الا ىہ کہ وہ ملک ىمىن ہو۔ ملک ىمىن کے بارے مىں شىعہ اور سنى دونوں متفق ہىں کہ وہ متعہ نہىں ہے۔قرآن مجىد کا فرمان ہے:

وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ۔ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (المومنون 23: 5 ۔ 6،المعارج70: 29 ۔ 30)

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں(ترجمہ فتح محمد جالندھرى)

یہاںالّا علیٰ ازواجهمکے الفاظ ىہ بتا رہے ہىں کہ ہم زوجىت صرف اور صرف اپنى بىوى ہى سے کرسکتے ہىں ۔اس آىت کے مکہ ہى مىں نازل ہونے کا مطلب ىہ ہے کہ ملک ىمىن اور منکوحہ بىوى کے سوا کسى کے ساتھ ہر طرح کا تعلق اسلام نے ابتداء ہى مىں منع کردىا تھا۔قرآن کے اس حکم کے بعد ہم اطمىنان سے کہہ سکتے ہىں کہ متعہ اسلام کى تعلىمات کا حصہ نہىں ہے۔لىکن چونکہ اہل سنت کے بعض علما بھى رواىات کى وجہ سے دور اول مىں ىعنى فتح مکہ تک اس کے جواز کے قائل ہىں اور بعد مىں اسے حرام مانتے ہىں، تو ضرورى ہے کہ ہم ان رواىات پر بھى اىک نگاہ ڈال لىں۔

صرف صحىح مسلم اور صحىح بخارى ہى کو اگر دىکھ لىں تو شرىعت کے تمام امور کے برعکس ىہ واحد چىز ہے کہ جو غزوہ اوطاس، فتح مکہ اور جنگ ِخىبر کے مواقع پر تىن بارحرام ہوئى اور تىن بار حلال ہوئى اور پھر بالآخر قىامت تک کے لىے حرام کردى گئى!جبکہ اوپر ہم عرض کرچکے ہىں کہ سورہ معارج اور سورہ المومنون کے مطابق متعہ مکى دور ہى سے حرام تھا۔ تو کىا ـــــــنعوذ باللہ ـــــــ نبى اکرم قرآنى حکم کے برخلاف اس کى اجازت دىتے رہے اور پھر دو ىا تىن دن کے بعد اجازت واپس لىتے رہے۔ ىا ـــــنعوذ باللہ ـــــــکىا آپ کو پچھلى دفعہ کى حرمت بھول جاتى تھى؟ جبکہ آپ معصوم عن الخطا ہىں۔دىن کے باقى حکم بھى منسوخ ہوئے ہىں ، لىکن اس طرح کوئى نہىں ہوا کہ لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ حرام ہے، انھوں نے آپ سے اجازت لى، آپ نے اجازت دى، دوسرىے ىا تىسرے دن ىہ اجازت اٹھا لى گئى۔ دوسرى جنگ کے موقع پر پھر ىہى ہوا، آپ نے لوگوں کو اجازت دى، دو ىا تىن دن کے بعد پھر اجازت واپس لے لى گئى، اس طرى تىسرى جنگ مىں بھى ہوا ۔ سوال پىدا ہوتا ہے کہ آىا ىہ اللہ کا رسول ہے ، ىا نہىں؟ جس کو اىک ڈىڑھ سال کے اندر ہى اندر تىن دفعہ بات کو بدلنا پڑا ۔اس لىے اس مسئلے مىں رواىات پر اعتبار نہىں کىا جاسکتا۔ کچھ سازش سى محسوس ہوتى ہے۔

مزىد ىہ بات بھى ذہن نشىن رکھىے کہ عربوں کى قبل از اسلام تارىخ مىں اس کا ثبوت نہىں ملتا۔ جو نکاح کے طرىقے قبل از اسلام عربوں مىں رائج تھے ان مىں متعہ ہر گز شامل نہىں تھا۔

اب رہا آپ کا آخرى سوال کہ نبى اکرم صلى اللہ علىہ وسلم کے زمانے مىں اىک کام ہو اور کىا ابو بکر و عمر رضى اللہ عنہما اس کو روک سکتے ہىں۔شرىعت کے مسئلے مىں انھىں ىہ حق نہىں ہے۔ ىعنى جہاں شرىعت نے کوئى حکم دىا ہو تو وہاں وہ اىسا نہىں کرسکتے ، لىکن جہاں معاملہ تدبىرى ہو، ىا شرىعت خاموش ہو، اور نبى اکرم کے زمانے مىں اس کے بارے مىں کوئى قانون نہ ہو تو وہاں قانون بناىا جاسکتاہے۔ مثلا نبى اکرم صلى اللہ علىہ وسلم نے سڑک پر چلنے کے لىے اشارہ کى پابندى کا کوئى قانون نہىں دىا تھا۔ ہم اس قانون کو بناسکتے ہىں۔ اىسا ہى قانون ابو بکر و عمر بھى بناسکتے تھے۔ ىہ ہمارى کم فہمى ہوتى ہے کہ ہم ان کے تمام قوانىن کو شرعى سمجھ لىتے ہىں۔ حالانکہ وہ محض انتظامى ہوتے ہىں(جىسےحضرت عمر کا فوج کے لىے تىن ماہ بعد گھر آنے کا قانون)۔

ابو بکر ، عمر، عثمان اور على رضى اللہ عنہم نے جتنے قانون بنائے ، وہ سب کے سب اسى انتظامى اصول پر بنائے گئے۔ مثلا نبى اکرم صلى اللہ علىہ وسلم کے زمانے مىں شرابى کو کوڑے نہىں لگائے جاتے تھے، حضرت على کا اجتہاد تھا کہ قذف کے اصول پر شرابى کو 80 کوڑے لگائے جائىں۔اب کوئى شخص ىہ کہہ سکتا ہے کہ جس جرم کى سزا نبى اکرم نے مقرر نہىں کى کىا حضرت على اسے مقرر کرسکتے ہىں۔ تو ہم ىہى کہىں گے کہ شرىعت کے دائرے سے باہر اگر مسئلہ انتظامى نوعىت کا ہے تو بناسکتے ہىں ، اور اگر شرىعت کے خلاف ہو تو نہىں بناسکتے۔اسى اصول پر بعد مىں فقہى قانون سازى ہوئى۔ بلاشبہ اس مىں کبھى حدود سے تجاوز بھى ہوتا رہا ہے مگر بہرحال اىک دائرہ اىسا ہے کہ اس مىں شرىعت سازى نہىں، لىکن قانون سازى ہو سکتى ہے۔

اسى طرح بسا اوقات ہمىں قانون کے بعض پىچىدہ پہلوؤں کا علم نہىں ہوتا، ابو بکر وعمر اور عثما ن و على جىسے لوگ اس سے واقف ہوتے ہىں ، جس وجہ سے وہ قانون کے اس پہلو کا استعمال کرلىتے ہىں جو ہمارے لىے نىا ہوتا ہے اور ان کے لىے وہ اس قانون کا مانا ہوا حصہ ہوتا ہے۔اس دائرے مىں ھى جب وہ اپنے فہم کا اظہار کرىں گے تو ہمىں لگے گا کہ وہ دىن کو بدل رہے ہىں۔

answered by: Sajid Hameed

About the Author

Sajid Hameed


Sajid Shahbaz Khan who writes under his pen name; Sajid Hameed was born on the 10th of October 1965, in Pakpattan, then a small town in Sahiwal, Punjab, Pakistan. Mr.Khan works as the head of the Education Department at Al-Mawrid. His academic endeavors include working as the head of The Department of Islamic and Religious Studies at the University of Central Punjab in Lahore. Having achieved two Master’s degrees: MA Urdu and MA Islamic Studies, he is currently enrolled as a PhD scholar at UMT, Lahore, dissertating on “Muslim Epistemology”.  His MS (MPhil) was on Islamic Jurisprudence with a thesis on “The Probable and Definitive Signification of Text in Islamic Jurisprudence”. Alongside this, he has designed a large number of courses for graduate, undergraduate and younger students. 

Mr.Khan studied the Holy Qur’an from Mr.Muhammad Sabiq, a Deobandi scholar. He gained knowledge of the Hadith through the Muwatta of Imam Malik and through Nuzhah al-Fikr, a famous work on Hadith criticism under Hafiz Ata ur Rehman: an erudite Hadith scholar. He has remained a student of advanced studies in religious disciplines under Mr. Javed Ahmad Ghamidi since 1987, granting him a deep understanding of the Qur’an, Hadith, Arabic literature and other religious disciplines.

Mr.Khan’s teaching career is highlighted by the prestigious colleges and universities of Lahore that he has taught at. Arabic language and rhetoric, Islamic Law and Jurisprudence, Urdu language, Quran, Hadith, and Muslim Philosophy are his primary subjects. Coupled with his academic and professional accolades are appearances on several televised talk shows and being the author of various religious books and research articles.