نكاح كی شرائط

سوال:

ٹی۔ وی (مدنی چینل) میں ایک عالم دین نے بتایا ہے کہ جس طرح تین (٣) بار طلاق دینے سے طلاق ہو جاتی ہے اسی طرح اگر دو(٢) لوگ جو ایک دوسرے کو دل سے چاہتے ہوں اور شادی کرنا چاہتے ہوں تووہ اگر اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر ایک دوسرے کو تین بار قبول کرلیں تو ان کا نکاح ہو جائے گا، کیوں کہ اسلام میں پسند کی شادی کرنے کی اجازت ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا نکاح نامہ پڑھے بغیر اور گواہوں کے بغیر بھی نکاح ہو سکتا ہے؟ اور اگر ایسا ہو سکتا ہے تو میرا خیال ہے کہ اس طرح بہت سے معاشرتی مسائل پیدا ہوں گے۔اس طرح تو کوئی بھی جذبات میں آ کر اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر جلد بازی میں کسی کو قبول کر لے گا۔ برائے مہربانی یہ بھی بتائیے کہ نکاح میں کن باتوں اور شرائط کو پورا کرنا لازمی ہے جن کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا؟


جواب:

السلام عليكم

آپ نے نكاح كے حوالے سے خدا كى گواہى كى جو بات سنى ہے، وه درست نہيں ہےاور اس پرآپ كا تردد بالكل صحيح ہے.

شريعت نے نكاح كےليے جن باتوں كو لازم قرار ديا ہے. وه درج ذيل ہيں:

1.حق مہر

2.پاك دامنى

3.علانيہ ايجاب و قبول(كم از كم دوگواہوں كا موجود ہونا)

4.مستقل رفاقت كى نيت

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author