نكاح ميں فريقين كي رضامندي

سوال:

١۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نبوت سے پہلے کس طریقہ سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کی تھی؟

٢۔ کیا نکاح نامہ پڑھے بغیر دونوں فریقوں کی رضامندی سے نکاح ہو جائے گا؟

برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

آپ کے سوالوں کا جواب دینے سے قبل مناسب یہ ہوگا کہ 'نکاح کیا ہوتا ہے؟' اس سوال کا جواب دے دیا جائے۔ نکاح سے متعلق استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی صاحب اپنی کتاب 'میزان' میں لکھتے ہیں:

''علانیہ ایجاب و قبول کے ساتھ یہ مردو عورت کے درمیان مستقل رفاقت کا عہد ہے جو لوگوں کے سامنے اور کسی ذمہ دار شخصیت کی طرف سے اِس موقع پر تذکیر و نصیحت کے بعد پورے اہتمام اور سنجیدگی کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔ الہامی صحیفوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی آدم میں یہ طریقہ اُن کی پیدایش کے پہلے دن ہی سے جاری کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ قرآن نازل ہوا تو اِس کے لیے کوئی نیا حکم دینے کی ضرورت نہ تھی۔ ایک قدیم سنت کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کو اپنی امت میں اِسی طرح باقی رکھا ہے۔''

اس بنیادی بات کے بعد آپ کے سوالات کے جواب حسب ذیل ہیں۔

١۔ میزان کے مذکورہ بالا حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ نکاح ایک قدیم سنت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت سے پہلے بھی اسی طرح موجود تھی جس طرح آج ہے۔ تاریخی روایات سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ بی بی خدیجہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح بالکل اسی طرح ہوا تھا جیسے آج ہوتا ہے۔ ایک مجلسِ نکاح منعقد ہوئی جس میں فریقین کے رشتہ دار موجود تھے۔ یہ گویا کہ ایجاب و قبول اور اعلانِ عام کی مجلس تھی۔ اس موقع پر روایت کے مطابق ابوطالب نے کچھ خطبہ نکاح بھی دیا۔

٢۔نکاح سے متعلق اس وضاحت سے یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ دراصل مرد و عورت کے درمیان مستقل رفاقت کا عہد ہے جو اعلانِ عام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر خطبہ نکاح کی حیثیت تذکیر و نصیحت کی ہوتی ہے۔ یہ نہ ہوبھی ہو تب بھی نکاح ہوجائے گا۔

اس جواب کے کسی پہلو کے حوالے سے اگر کوئی بات مزيد وضاحت طلب ہے توآپ بلا جھجک ہم سے رابطہ کريں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو بات درست ہے اسے ہمارے دلوں ميں راسخ فرمادے اور ہماری غلطيوں کو معاف فرماکر صحيح بات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے،آمين۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author