نكاح اور مہر

سوال:

ايك آدمی نے نكاح كرتےوقت مہر ادا نہ كرنے يا كم مہر دينے كی نيت دل ميں ركھی۔ اس نے ايك بڑی رقم بظاہر طے تو كرلی مگر صرف اس لئے كہ لڑكی مان جائے۔ اس شخص كا دعوی ہے كہ لڑكی ضد كر رہی تھی اور اس نے صرف نكاح كرنے كی غرض سے مطلوبہ رقم لكھ دی۔ ميرا سوال يہ ہے كيا يہ نكاح ہو گيا اگر وہ اب مہر ادا بھی كر دے؟ ميرا خيال يہ ہے كہ يہ نكاح نہيں ہوتا۔


جواب:

معاشرتی معاملات مكمل طور پر نيت پر منحصر نہيں ہوتے۔ مثلا اگر ايك شخص ماركيٹ ميں ايك سودا كرتا ہے يا طلاق ديتا ہے تو اس كا فيصلہ معتبر سمجھا جاتا ہے اور عموما اس كے نتائج كا لحاظ كرنا پڑتا ہے۔ وہ يہ نہيں كہ سكتا كہ ميری تو نيت ہی نہ تھی۔ لہذا اس شخص كو جس نے مہر كی ايك رقم تو طے كر لی مگر دل سے دينے كی نيت نہ تھی عدالت اور معاشرہ مجبور كرے گا كہ وہ اب طے شدہ رقم بطور مہر اپنی بيوی كو ادا كرے۔ اس سے وہ صرف ايك صورت ميں رعايت حاصل كر سكتا ہے كہ اس بيوی اسے مہر كی رقم جزوی يا كلی معاف كر دے۔ ہم اس نكاح كو باطل قرار نہيں دے سكتے ۔ آپ جانتے ہيں كہ جھوٹی گواہی دينا كتنا بڑا جرم ہے مگر اس پر كيا جانے والا فيصلہ اور اس كے نتيجہ ميں اٹھائے جانے والے عملی اقدامات واپس نہيں كئے جاتے۔ مثلا ايك نكاح ہو جائے يا سزا نافذ ہو جائے۔ جھوٹ بولنے والا شخص عند الله گناہگار اور جرم ثابت ہو جانے پر سزا كا مستحق قرار پاسكتا ہے۔

زير نظر مسئلہ ميں يہ شخص دھوكہ دہی اور فراڈ كا مجرم ہے۔ البتہ اس كا نكاح غلط قرار نہيں پائے گا اور تمام حقوق و فرائض جو نكاح سے منتج ہوتے ہيں وہ فريقين كو پورے كرنا ہوں گے۔ اس كے لئے بہتر يہی ہے كہ وہ الله سے سچے دل سے معافی مانگے اور توبہ كرے۔ اگر مہر كی رقم ادا نہيں بھی كر سكتا تو بيوی كو اصل صورت بتائے اور اس سے معاف يا كم كرا لے۔ نكاح برقرار رہے گا اور اس متعلقہ معاملات اسی اعتبار سے صحيح تصور كئے جائيں گے۔

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author