نصاب زکوٰۃ میں تبدیلی کا حق

سوال:

کیا ریاست زکوٰۃ کے نصاب میں تبدیلی کر سکتی ہے؟


جواب:

استاد محترم غامدی صاحب کی تحقیق کے مطابق زکوٰۃ کے نصاب میں ریاست اجتہاد کر سکتی ہے۔ لہٰذا ریاست جو نصاب بھی طے کر دے گی، اس سے کم مال یا پیداوار پر زکوٰۃ عائد نہیں ہو گی۔ وہ اپنی کتاب ''میزان''کے باب ''قانون عبادات'' میں زکوٰۃ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

''... ریاست اگر چاہے توحالات کی رعایت سے کسی چیزکوزکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دے سکتی اورجن چیزوں سے زکوٰۃ وصول کرے ، اُن کے لیے عام دستور کے مطابق کوئی نصاب بھی مقرر کرسکتی ہے۔ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی مقصد سے گھوڑوں اورغلاموں کی زکوٰۃ نہیں لی اور مال ، مواشی اورزرعی پیداوار میںاُس کا نصاب مقرر فرمایا ۔یہ نصاب درج ذیل ہے : مال میں 5 اوقیہ /642 گرام چاندی
پیداوار میں 5 وسق/653 کلو گرام کھجور
مواشی میں 5 اونٹ ، 30 گائیں اور 40 بکریاں ۔آپ کا ارشادہے : 'قد عفوت عن الخیل والرقیق'(میں نے گھوڑوں اورغلاموں کی زکوٰۃ معاف کردی ہے )۔اِسی طرح فرمایا ہے:
ليس فيما دون خمسة اوسق من التمر صدقة ، وليس فيما دون خمس اواق من الورق صدقة ، وليس فيما دون خمس ذود من الابل صدقة. (موطا ، رقم 683)
5 وسق سے کم کھجور میں کوئی زکوٰۃنہیں ہے، 5 اوقیہ سے کم چاندی میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے اور 5 سے کم اونٹوں میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے ۔''( ص 353)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ واضح طور پر یہ بتا رہے ہیں کہ یہ نصاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا رسول ہونے کی حیثیتسے نہیں، بلکہ عرب کی ریاست کا فرماں روا ہونے کی حیثیت سے مقرر فرمایا تھا، چنانچہ اگر ریاست محسوس کرے تو وہ اس میں تبدیلی کر سکتی ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author