نماز تہجد كا طريقہ

سوال:

ميرا سوال يہ ہے كہ تہجد كا وقت كيا ہے؟ تہجد اور دوسری نمازوں ميں كيا فرق ہے اور اس ميں كتنی ركعات پڑھی جاتی ہيں؟ تہجد كی فضيلت كيا ہے؟ كيا وہ شخص تہجد پڑھ سكتا ہے جس نے عشاء كی نماز نہ پڑھی ہو؟


جواب:

تہجد کا وقت آدھی رات سے لے کر طلوع فجر یعنی سحری کے اختتام تک ہوتا ہے۔ نمازِ تہجد کا اصل وقت ، جیسا کہ قرآن مجید کی سورہء بنی اسرائیل اور سورهء مزمل سے واضح ہے، سو کر اٹھنے کے بعد ہی کا ہے اور اِسی وجہ سے اِسے نماز تہجد کہا جاتا ہے۔ تاہم کوئی شخص اگر یہ سعادت حاصل کرنے میں کسی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے تو وہ یہ نماز عشا کے بعد سونے سے پہلے بھی پڑھ سکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' تم میں سے جسے اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہ اٹھ سکے گا، اُسے چاہیے کہ سونے سے پہلے اپنی نماز وتر کر لے، لیکن جو یہ سمجھتا ہو کہ وہ یقینا اٹھے گا، اُسے یہ نماز رات کے آخری حصے ہی میں پڑھنی چاہیے۔ اِس لیے کہ آخر شب کی قراء ت روبرو ہوتی ہے اور وہی افضل ہے۔'' ( مسلم، رقم ١٧٦٧)

محض نماز ہونے کے پہلو سے تو تہجد اور ديگر نمازوں ميں کوئی فرق نہیں ہے۔ البتہ اس كو ادا کرنے کے درج ذیل طریقے ہیں، جن میں کوئی بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

دو دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے، پھر ایک رکعت سے یہ نماز وتر کر دی جائے۔

دو دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا جائے، پھر پانچ رکعتیں اِس طرح پڑھی جائیں کہ اُن میں قعدہ صرف آخری رکعت میں کیا جائے ۔

چار چار رکعتیں عام طریقے سے پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے، پھر تین رکعتیں قعدے کے بغیر مسلسل پڑھ کر آخری رکعت میں قعدہ کیا جائے اور اُس کے بعد سلام پھیرا جائے۔

دو یا چار یا چھ یا آٹھ رکعتیں قعدے کے بغیر مسلسل پڑھ کر آخری رکعت میں قعدہ کیا جائے، پھر سلام پھیرے بغیر اٹھ کر ایک رکعت پڑھی جائے اور قعدے کے بعد سلام پھیرا جائے ۔

اس نماز کی فضیلت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات ہماری اِس دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو فرماتے ہیں: اِس وقت کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اُس کی پکار کا جواب دوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اُسے عطا کردوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت چاہے کہ میں اُسے بخش دوں۔

اگر آپ نے عشا کی نماز نہیں پڑھی اور تہجد کا وقت ہو چکا ہے ،تو پہلے آپ عشا کی نماز پڑھیں گے اور پھر تہجد کی نمازپڑھیں گے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author