نمازِ تہجد کا وقت

سوال:

کیا نمازِ تہجد کی ادائیگی کے لیے سونا شرط ہے یا ہم بغیر سوئے عشا کے بعد کسی بھی وقت اسے ادا کر سکتے ہیں اور تہجد کی نماز اور صلوٰۃ اللیل میں کیا فرق ہے ؟


جواب:

قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شب وروزکی پانچ نمازوں کے علاوہ ایک اور نماز بھی لازم کی گئی ہے:

’’اور رات کواٹھ کربھی(اے پیغمبر)نمازکا اہتمام کرو، یہ تمھارے لیے مزیدبرآں ہے ‘‘۔(بنی اسرائیل 17: 79)

یہی وہ نمازہے جسے تہجدکہا جاتا ہے ۔لفظ تہجدسے مرادرات کونیندسے اٹھنا ہے۔ عام مسلمانوں کے لیے یہ ایک نفل نماز ہے او رجنھیں اللہ تعالیٰ توفیق دے، اُن کے لیے بڑی سعادت کی بات ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اِس کا اہتمام کریں۔ بیان کیا گیا ہے کہ آپ اِس نماز کی زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعتیں پڑھتے اور اِس میں بہت لمبا رکوع و سجود اور قیام کرتے تھے۔

اِس نماز کا اصل وقت سو کر اٹھنے کے بعد ہی کا ہے اور اِسی وجہ سے اِسے نماز تہجد کہا جاتا ہے۔ قرآن نے اِسے حضوری کا وقت قرار دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات ہماری اِس دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو فرماتے ہیں: اِس وقت کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اُس کی پکار کا جواب دوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اُسے عطا کردوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت چاہے کہ میں اُسے بخش دوں۔ (بنی اسرائیل ١٧: ٧٩ ۔ بخاری، رقم ١١٤٥۔ مسلم، رقم ١٧٧٢)

تاہم کوئی شخص اگر یہ سعادت حاصل کرنے میں کسی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے تو وہ یہ نماز سونے سے پہلے بھی پڑھ سکتا ہے۔ سورۂ مزمل میں اِس نماز سے متعلق تخفیف کی آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر فرمایا ہے:

’’تم میں سے جسے اندیشہ ہوکہ وہ رات کے آخری حصے میں نہ اٹھ سکے گا، اسے چاہیے کہ سونے سے پہلے اپنی نماز وتر(طاق) کر لے ، لیکن جویہ سمجھتا ہے کہ وہ یقینا اٹھے گا، اسے یہ نمازرات کے آخری حصے ہی میں پڑ ھنی چاہیے۔ اس لیے کہ آخری شب کی قراءت روبروہوتی ہے اوروہی افضل ہے ‘‘۔(مسلم، رقم 1767)

ہمارے یہاں عشا کے ساتھ جو وتر پڑھے جاتے ہیں وہ دراصل تہجد ہی کی نماز ہیں۔ مذکورہ بالا حدیث کی بنیاد پر یہ ایک رعایت کے طور پر عشا کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ وتر کے لفظی معنی طاق کے ہوتے ہیں۔ تہجد کی نماز کو کیونکہ طاق (مثلاً تین، پانچ، گیارہ)ہی پڑ ھا جاتا ہے ، اس لیے اس کو نماز کا وتر( طاق) کرنا کہہ دیا جاتا ہے۔ اوپر کی حدیث کے عربی الفاظ میں بھی یہی اسلوب استعمال ہوا ہے ۔

’صلوۃ اللیل‘اسی نمازکا دوسرا نام ہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author