نماز کے اوقات

سوال:

یہاں ناروے میں نماز کے اوقات بڑے مختلف ہیں گرمیوں میں اور سردیوں میں اور۔ جس کی وجہ سے ہر موسم میں مختلف نمازوں کی وقت پر ادائیگی میں مشکل پیش آتی ہے۔ مثال کے طور پر:


فجر طلوع آفتاب ظہر عصر مغرب عشا
گرمیوں میں 3:10 3:53 13:23 19:19 22:46
سردیوں میں 6:52 9:10 12:14 13:24 15:15

سردیوں میں مجھے نو گھنٹے مسلسل سونا ہوتا ہے ورنہ میرا جسم مجھے کچھ کام نہیں کرنے دیتا۔ میں ساڑھے آٹھ گھر سے نکلتا ہوں اور ساڑھے اٹھارہ واپس آتاہوں۔ فجر تو ادا ہوگئی۔ عشا بھی ادا ہوگئی۔ باقی نمازوں میں ایک تو ادا کرہی لوں گا کیونکہ جاب پر دو بندے ہوں گے۔ لیکن باقی ٹائم اکیلا ہوں گا اس لیے قضا کرنی پڑے گی۔ میرا خیال ہے کہ مغرب کو عشا کے ساتھ ملا کر پڑھ لوں گا۔ کیا یہ درست ہوگا۔

گرمیوں میں فجر قضا ظہر قضا (کام پر اکیلا) عصر ادا، 22:30 مجھے بیڈ پر جانا ہے، مغرب کی ادائیگی کا کچھ کرنا ہے۔ یہاں میں عشا کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتا ہوں۔ میں پانچ وقت کی نمازیں وقت کی پابندی کے ساتھ پڑھنا چاہتا ہوں۔ جو ناممکن ہے۔ کیا میں جیسے کر رہا ہوں وہ درست ہے؟


جواب:

آپ کے دو مسئلے ہیں۔ ایک یہ کہ وہاں نیند پوری کرنے میں کچھ نمازیں رہ جاتی ہیں اور دوسرا یہ کہ بعض نمازوں میں آپ اکیلے ہوتے ہو اور وہ نماز ادا نہیں ہو پاتی ہے۔ آپ نمازیں ملا کر بھی پڑھتے ہو۔

نماز ملا کر پڑھنا بالکل درست ہے۔ جہاں آپ اس کی ضرورت محسوس کریں نماز ملا کر پڑھ سکتے ہیں لیکن جماعت نہ ہو سکنا اس کی وجہ نہیں ہے، آپ وقت پر اکیلے نماز پڑھ لیا کریں اس صورت میں نماز ملا کر پڑھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ البتہ جب آپ رات کے بہت ہی چھوٹے ہونے کی وجہ سے مغرب اور عشا ملا کر پڑھتے ہیں وہ وہاں کے حالات کی وجہ سے درست معلوم ہوتا ہے۔ نماز ملا کر پڑھنے کا سبب صرف ایک ہے کہ گھر یا دفتر یا نماز کے لیے مناسب جگہ سے دور ہونے کی وجہ سے آپ کو اندیشہ ہو کہ نماز کا وقت گزر جائے گا تو آپ نماز ملا کر پڑھ سکتے ہو لیکن جماعت نہ ملنے کی وجہ سے نماز نہ پڑھنا درست نہیں ہے۔ نماز اکیلے بھی پڑھی جا سکتی ہے، لہذا جب وقت ہو جائے آپ کو نماز پڑھ لینی چاہیے اور جماعت کے ملنے کے انتظار میں نماز نہیں چھوڑنی چاہیے۔

باقی رہا آپ کا نیند کا مسئلہ تو میرے خیال میں آپ جب بھی سو کر اٹھیں آپ کو نماز ادا کرنی چاہیے امید یہی ہے کہ آپ کے عذر کو اللہ تعالی قبول فرمائیں گے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author