نماز كی حقيقت كيا ہے؟

سوال:

غامدی صاحب ميزان ميں لكھتے ہيں:

نماز کیا ہے؟ خدا کی معرفت، اُس کا ذکر و فکر اور اُس کی قربت کا احساس جب اپنے منتہاے کمال کو پہنچتا ہے تو نماز بن جاتا ہے۔

براہ كرم وضاحت كريں كہ خدا كی معرفت، قربت كا احساس كس طرح حاصل ہو سكتا ہے؟ كيا اس كا كوئی خاص طريقہ ہے؟


جواب:

قرآن مجید میں نماز کے بارے میں جہاں تاکید بہت آئی ہے اور اسے دین کی اصل وبنیاد قرار دیا گیا ہے وہیں قرآن میں نماز کا مقصد اور غرض وغایت بھی واضح کی گئی ہے۔قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ نماز خدا کی یاد کے لیے پڑھی جائے۔ اقم الصلاة لذکری۔میری یاد كےلیے نماز پڑھو۔ اسی طرح سجدے کو قرب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ واسجد واقترب۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نماز بندگی کے صحیح شعور اور نماز کے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے نماز میں پڑھے جانے والے کلمات کے معنی پر نظر رکھتے ہوئے ادا کی جائے تو قرب خداوندی اور حاضری کی کیفیت حاصل ہو جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نماز پڑھنے کے لیے یہ تلقین کی ہے کہ نماز خدا کے سامنے کھڑے ہونے کے تصور کے ساتھ پڑھی جائے۔ یہ کیفیت مسلسل کوشش کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ لیکن اگر یہ کوشش کی جائے تو نتائج نکلتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو بہترین طریقے پر نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author