نماز کی جگہ فلاحی کام کرنا

سوال:

ہم نماز پڑ ھتے ہیں ، اس میں کم و بیش دو گھنٹے روزانہ لگتے ہیں ۔ کیا یہی وقت ہم دیگر فلاحی کاموں میں استعمال نہیں کر سکتے؟ دفتروں میں لوگ کام سے بچنے کے لیے نماز دیر سے پڑ ھتے ہیں ۔ جبکہ اہل مغرب ہمہ وقت کام کر کے ترقی کر رہے ہیں۔


جواب:

آپ کے سوال کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ عبادت اور اس کا حق ہے ۔کوئی اور عمل خواہ کتناہی مفید کیوں نہ ہو، اس کا بدل کبھی نہیں بن سکتا۔تاہم اگر نماز کی حقیقت پر غور کیا جائے تو پھر یہ سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔نماز خدا کی پرستش ہے ۔ یہ بندگی کی علامت ہے ۔اپنے سارے ضروری کام چھوڑ کر جب آپ نماز کے لیے کھڑ ے ہوتے ہیں تو آپ خالق اور مخلوق دونوں کو یہ بتاتے ہیں کہ آپ خود کو آزاد نہیں ، بلکہ ایک رب کا بندہ سمجھتے ہیں ۔ اس کی مرضی کا پابند سمجھتے ہیں ۔خود کو رب کا غلام سمجھنا ہی وہ چیز ہے جو جنت میں جانے کی ضمانت ہے ۔اسی لیے نماز کو جنت کی کنجی قرار دیا گیا ہے ۔

جہاں تک فلاحی کام کا تعلق ہے تو جس شخص نے فلاحی کام کرنے ہیں وہ نماز پڑ ھ کر بھی یہ کام کرسکتا ہے ۔ اس کے لیے نماز چھوڑ نا ضروری نہیں ۔ قرآن کریم میں نماز کا مقصدیہ بیان ہوا ہے کہ اس سے انسان کو خدا یاد رہے (طہ14 :20)۔ جس انسان کو ہمیشہ خدا یاد رہے وہ بندوں کے حقوق کے معاملے میں لازماًحساس رہتا ہے۔ یہی حقوق العباد فلاحی کاموں کی بنیاد ہیں ۔

ہمارے دفتروں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی ذمہ داری نماز پر نہیں ڈالی جا سکتی ۔ ایسے غیر ذمہ دار لوگ اگر نماز بھی نہیں پڑ ھیں گے تو کسی اور طریقے سے کام کو ٹالیں گے ۔رہا مغرب کی ترقی کا سوال تو اس کا نماز چھوڑ نے سے کوئی تعلق نہیں۔ ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دینا ان کے قوم کی مزاج کا حصہ ہے ۔ ان میں سے جو لوگ مسلمان ہیں وہ نماز پڑ ھ کر بھی اسی طرح کام کرتے ہیں۔ البتہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ دفتری اوقات میں نمازوں کو طول نہیں دینا چاہیے ۔اس مقصد کے لیے گھر میں تنہا پڑ ھی جانے والی نفل نمازیں بہتر رہتی ہیں۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author