نماز میں درود ابراہیمی

سوال:

نماز میں تشہد کے بعد پڑھے جانے والے درود ابراہیمی کی اصل حقیقت کیا ہے؟


جواب:

درود ابراہیمی اللہ تعالیٰ کے حضور میں ایک دعا ہے جو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کرتے ہیں۔ نماز میں چونکہ بہت سی دعائیں کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے، اس لیے آپ جو چاہیں دعا کریں۔ روایتوں میں آتا ہے کہ صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم آپ کے لیے بھی دعا کرنا چاہتے ہیں تو کیا طریقہ اختیار کریں؟ آپ خاموش رہے۔ جب بار بار پوچھا تو پھر آپ نے کچھ کلمات ارشاد فرمائے اور کہا کہ میرے لیے اس طرح دعا کر لیا کرو۔ یہی کلمات درود ابراہیمی ہیں۔

درود ابراہیمی نماز کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ نماز اس کے بغیر بھی ہوجاتی ہے۔ حتیٰ کہ تشہد بھی نماز کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ نماز کے لازمی اذکار سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ قرآن ملاکر پڑھنا ہے۔ اور خفض ورفع پر 'اللّٰه اکبر' کہنا، 'سمع اللّٰه لمن حمده 'کہنا 'السلام عليکم ورحمة اللّه ' کہنا ہے۔ باقی آپ کو اجازت ہے آپ اس میں جو دعا چاہیں کر سکتے ہیں۔ (اگست ٢٠٠٤)

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author