نماز میں سلام پھیرنا اور شہادت کی انگلی اٹھانا

سوال:

نماز میں سلام پھیرنے اور جلسے میں شہادت کی انگلی اٹھانے کا پس منظر کیا ہے؟


جواب:

نماز میں سلام پھیرتے وقت ہم ''السلام عليکم'' کہہ کر اصل میں نماز سے فارغ ہوتے ہیں۔ یہ بڑا پاکیزہ طریقہ ہے۔ نماز پڑھتے ہوئے ہم اللہ کے حضور میں ہوتے ہیں ، اس سے نکلنے کے لیے کوئی علامت تو بہرحال ہونی چاہیے تھی۔ اس کا اس سے اچھا طریقہ کیا ہو سکتا تھاکہ جب ہم نماز مکمل کریں تو اپنے دائیں بائیں رخ کر کے اللہ کی مخلوق کے لیے سلامتی کی دعا کریں۔

جلسے میں شہادت کی انگلی توحید کی علامت کے طور پر اٹھائی جاتی ہے۔ نماز کے ارکان اصل میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارے تعلق کا علامتی اظہار ہیں۔ یہی معاملہ حج اور قربانی کے ارکان کا بھی ہے۔ یہ علامتی اظہار بڑا اہم ہوتا ہے اور عبادا ت میں اس سے مقصود درحقیقت ایمانیات کے مختلف اجزا کو ذہن میں قائم رکھنا ہوتا ہے۔ اس کو ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے ملک کے جھنڈے کو سلام کرتے ہیں، ترانے کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں اصل میں ہمارے جذبات کا ، ہماری تعظیم کا علامتی اظہار ہیں۔ (اگست ٢٠٠٤)

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author