نماز قائم کرنا

سوال:

نماز پڑھنے اور قائم کرنے میں کیا فرق ہے اور پاکستان جیسی ریاست نماز کیسے قائم کر سکتی ہے یا یہ فرما دیں کہ نماز قائم کرنے میں ریاست کا کیا کردار ہے؟

کیا مسجد میں نمازیوں کو سلام کرنا جائز ہے۔ کیونکہ مسجد میں خاموشی ہوتی ہے اور سلام کرنے اور جواب دینے سے نمازی ڈسٹرب ہوتے ہیں؟

میں اپنی بیوی کو نماز پڑھنے کے لیے کیسے قائل کر سکتا ہوں اور اگر وہ نماز نہیں پڑھتی تو میں اس کے لیے کتنا ذمہ دار ہوں؟


جواب:

محترم سلیم خان صاحب

السلام علیکم

آپ کے سولات کے جواب درج ذیل ہیں۔

۱)آپ کے اس سوال کے دو جز ہیں۔ دونوں پر مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنے تفسیر تدبر قران جلد اول صفحہ 92,93پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ پہلے جز کا جواب انہو ں نے بہت تفصیل سے دیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز قائم کرنے میں کئی چیزیں شامل ہیں۔ جس میں نماز کو اخلاص کے ساتھ یعنی صرف اﷲ کے لیے پڑھنا،قبلہ رو ہوکر پڑھنا،ذکر الہی اور خشوع کے احساسات کے ساتھ باہتمام پڑھنا،بغیر کسی کمی بیشی کے ایسے ہی پڑھنا جیسے اﷲ نے اسے پڑھنے کا حکم دیا ہے،نماز کو صفوں کی ترتیب کے ساتھ اور ارکان نماز کوپوری طرح ادا کرتے ہوئے پڑھنا،نماز کو اس کے اوقات پر پڑھنا اور جمعہ و جماعت کے اہتمام کے ساتھ پڑھنا شامل ہے۔

آپ کے سوال کے دوسرے جز کے جواب میں وہ لکھتے ہیں:

’’چھٹی چیزجمعہ دجماعت کاقیام واہتمام ہے۔خصوصیت کے ساتھ جب امت یاامام کی کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے تب توواضح طورپرجمعہ وجماعت کاقیام واہتمام ہی مدنظرہوتاہے۔مثلاًملاحظہ ہو،الَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَرِ (اگران کوزمین میں اقتداربخشیں گے تووہ نمازقائم کریں گے،زکوۃ دیں گے،معروف کاحکم دیں گے اورمنکرسے روکیں گے،،(حج41:22)حضرت ابراہیم علیہ سلام کی دعاجس میں انہوں نے اپنی ذریت کامشن بتایاہے،ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔رَّبَّنَا إِنِّیْ أَسْکَنتُ مِن ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِندَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُواْ الصَّلاَۃَ (37-ابراھیم)(اے ہمارے رب میں نے اپنی اولادمیں سے بعض کواس بن کھیتی کی زمین میں تیرے محترم گھرکے پاس بسایاہے،اےہمارے رب ،تاکہ یہ نمازقائم کرسکیں)‘‘ تدبر:92/1

مطلب یہ ہے کہ نماز کے قائم کرنے میں اسٹیٹ کا رول جمعہ و جماعت کا قیام و اہتمام ہے۔ جس کے لیے ظاہر ہے کہ مساجد کی تعمیر، انتظام اور ائمہ کا تقرر اور حکومت کی طرف سے جمعہ و عیدین میں خطبہ کا اہتمام وغیرہ سب شامل ہیں۔

۲) مسجد میں انسان اصل میں اﷲ کی عبادت کے لیے جاتے ہیں۔جبکہ سلام اصل میں ملاقات کے وقت کرنے کی چیز ہوتا ہے۔ اس لیے مسجد میں کسی سے ملاقات ہوجائے تو سلام کرلیجیے۔ داخل ہوتے وقت بلند آواز سے سب کو سلام کرنے کی ضرورت نہیں۔

۳) بیوی کو یقینا نماز پڑھنے کی تلقین کرنی چاہیے۔اس لیے کہ وہ شوہر کے دائرہ اختیار میں ہوتی ہے۔اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم ضرور ی نہیں کہ زور ربردستی کی جائے۔ بلکہ حکمت،نرمی اور محبت سے اس طرف توجہ دلائی جائے۔ لیکن اس کو اہم ترین مسئلہ سمجھ کر پوری کوشش کرنا چاہیے۔ تاہم تمام تر کوشش کے باجوداگر وہ نماز نہ پڑھے تو بہرحال ہر شخص کو آخر کار اپنے اعمال کا خود ہی جواب دینا ہوتا ہے۔ آپ پر ذمہ داری یہ ہے کہ ہر طرح سے پوری کوشش کیجیے۔اس سے زیادہ کے آ پ مکلف نہیں۔

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author