نماز سے پہلے ٹخنوں سے اوپر شلوار کرنا

سوال:

کیا نماز سے پہلے ٹخنوں سے اوپر شلوار کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟


جواب:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا کہ لوگ اپنا ازار، یعنی تہ بند متکبرانہ انداز میں ٹخنوں سے نیچے لٹکائے زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلتے ہیں تو آپ نے اپنے صحابہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنا تہ بند ٹخنوں سے اوپر رکھا کریں اور یہ بتایا کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہ بند زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلتا ہو گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں اور اس کا جو کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہو گا، وہ آگ میں ہو گا۔


چنانچہ صحابۂ کرام نے نہ صرف لباس کی اس متکبرانہ صورت کو بالکل ترک کیا، بلکہ تکبر کے ذہن کے بغیر بھی اس صورت کو اختیار کرنے سے مکمل گریز کیا، کیونکہ یہ، بہرحال اظہار تکبر ہی کی ایک صورت ہے۔


آج بھی اگر کوئی شخص اپنا تہ بند متکبرانہ انداز میں ٹخنوں سے نیچے لٹکائے زمین پر گھسیٹتا ہوا چلتا ہے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی وعید کا مخاطب ہے۔


لیکن سوال یہ ہے کہ آج کل شلوار کا ٹخنوں سے ذرا نیچے رکھا جانا کیا متکبرانہ لباس کی شکل ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ تہ بند کو نیچے لٹکانا اور زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلنا لباس کی واقعۃً متکبرانہ صورت اور علامت ہے، جبکہ شلوار کی عام رائج صورت کا معاملہ بالکل یہ نہیں۔


چنانچہ ہمارے خیال میں تہ بند لٹکا کر گھسیٹتے ہوئے چلنے سے متعلق حکم شلوار وغیرہ کی عام رائج صورت پر لا گو نہیں ہوتا۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author