نماز سے بے رخي

سوال:

جناب محترم میں (masters in economics) کی طالبعلم ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ مجھے عام طور پر نماز پڑھنے کو دل نہیں چاہتا۔ اور جب مجھ پر کوئی مشکل آتی ہے تو میں نماز پڑھنا شروع کر دیتی ہوں۔ مجھے پتا نہیں کیا ہو جاتا ہے۔ کبھی تو بہت پرہیز گار اور پکی مسلمان بن جاتی ہوں اور کبھی نماز اور دوسرے نیک اعمال کی طرف سے بالکل بے فکر ہو جاتی ہوں۔ برائے مہربانی آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گی۔ آپ کے سوال کا جواب حاضر ہے۔

آپ نے لکھا ہے کہ آپ ایم اے کی سٹوڈنٹ ہیں اور آپ کی نماز پڑھنے میں کیفیت یکساں نہیں رہتی۔ کچھ مشکل ہو تو نماز بہت بہتر ہو جاتی ہے۔ اس کا کیا حل ہے؟

پہلی بات تو یہ عرض کروں گا کہ آپ نماز پڑھتی رہیں۔ فرض ادا کرنا ہر حال میں ضروری ہے۔ خواہ کیفیت کچھ بھی رہی ہو۔ امید ہے کہ ہمارا حاضر ہونا بھی باعث اجر وثواب ہو گا۔ دوسری عرض یہ ہے کہ کسی کی کیفیت بھی یکساں نہیں رہتی۔ انسان پر مختلف حالات طاری ہوتے رہتے ہیں اور ان کے زیر اثر کیفیت بھی بدلتی رہتی ہے۔ اس سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اوپر اٹھانے کی کوشش کرتے رہیں۔ دین پر عمل میں بہتری لانے میں اصل اہمیت کوشش کی ہے۔ بے بس ہو کر بیٹھ جانا کسی طرح بھی موزوں نہیں ہے۔ تیسری عرض یہ ہے کہ نماز کی تیاری کو خاص اہمیت دیں اور فرض سے پہلے نوافل یعنی سنتیں پڑھنے کا بھی اہتمام کریں۔ نماز کے علاوہ بھی خدا کو یاد رکھنے کے لیے مختلف تسبیحات یا اذکار کو ان کے معنی کو ذہن میں رکھتے ہوئے دہراتے رہنے کا اہتمام کریں ۔ آخری عرض یہ ہے کہ اگر آپ کے لیے ممکن ہے تو کسی باعمل جید عالم کی مجلس میں کچھ وقت گزارنے کا اہتمام کریں۔ امید ہے اس طرح آپ کی نماز میں بہتری رہنے کا عرصہ طویل تر ہوتا جائے گا۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author