نو مولود کے کانوں میں اذان و اقامت کی شرعی حیثیت

سوال:

دنیا بھر کے مسلم معاشروں میں بالعموم نومولود بچوں کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی جاتی ہے۔ جسے ایک مشروع دینی عمل اور بچوں کی پیدایش کے موقع پر منجملہ اعمال مسنونہ قرار دیا جاتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اِس عمل کی دینی حیثیت کیا ہے ؟ دین میں اِس کے ثبوت کا ماخذ کیا ہے؟ کیا محققانہ نقطۂ نگاہ سے یہ بات واقعتاً پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس عمل کو ایک شرعی حکم کے طور پر اپنے ماننے والوں میں جاری فرمایا ہے ؟ کیا اِس کی حیثیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جاری کردہ ایک متفق علیہ سنت کی ہے یا اِس کا ماخذ آپ سے مروی کوئی خبر واحد ہے ؟ اِس باب میں مروی اخبار آحاد کے بارے میں محقق رائے کیا ہے ؟ کیا دین میں اِس کی مشروعیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے ؟ کیا تمام فقہا و محدثین اس کے حکم کے بارے میں باہم متفق ہیں یا اُن کے ما بین اِس مسئلے پر کچھ اختلافات بھی پائے جاتے ہیں؟


جواب:

نومولود کے کان میں اذان واقامت کے عمل کا ہم اگر تحقیقی نقطۂ نظر سے جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل کی صحیح روایتوں کے ذخیرے میں اِس عمل کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے استناد پر اُمت کا اجماع تو در کنار،اِس عمل کی مشروعیت پر علمی طور پر کسی ایک فقہی مذہب کے علما کے اتفاق کو ثابت کرنا بھی ناممکن ہے۔ مزید یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اِس باب کی تمام روایات کو جمع کر کے اگر علم حدیث کے معیار پر پرکھا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ اِس باب کی کوئی ایک روایت بھی تحقیق سند کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔ علمِ اسلامی کے دور اوّل کے تمام مراجع بھی اِس کے بیان اور روایت سے بالکل خاموش ہیں۔ چوتھی صدی تک کے ائمۂ فقہا نے بھی اِس اذان واقامت پر کبھی کوئی مثبت کلام نہیں کیا۔ جن فقہاے متاخرین نے اِس عمل کو قبول کیا ہے تو محض بعض کمزور اور ناقابل اعتبار روایتوں کی بنیاد پر کیا ہے۔ کوئی دلیلِ صحیح اس باب میں کوئی صاحب علم کبھی پیش نہیں کرسکا۔ پھر مزید یہ کہ اِس عمل کی مشروعیت کو ماننے والے اہل علم بھی بعض پہلؤوں سے باہم مختلف ہیں۔ نومولود کے کان میں اذان کہنے کا عمل جب امام مالک کے علم میں آیا تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ اِسے ایک غیر مشروع عمل قرار دیا،بلکہ اِسے ناپسند کیا۔ عصر حاضر کے بعض علماے محققین نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ہمارے نزدیک بھی اس مسئلے پر صحیح رائے عدم مشروعیت ہی کی ہے۔

زیر بحث مسئلے سے متعلق تفصیل کے طالب راقم الحروف کی مندرجہ ذیل تحقیق کی مراجعت کرسکتے ہیں:

اُصولی طور پر سب سے پہلے ایک بات تو یہ جان لینی چاہیے کہ بلا شبہ اب رہتی دنیا تک دینِ اسلام کا اصل مصدر ومنبع اور ہمارے لیے تنہا ماخذ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ دین خداوندی میں جس چیز کو وہ مشروع اور مسنون قرار دیں گے اُس کی حثیثیت ہمارے لیے بلا شبہ شریعت اسلامی کے ایک حکم کی ہوگی۔ اور جس عمل کو آپ کا استناد حاصل نہ ہوگا ، اُسے کسی طرح بھی شریعت سماوی کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ اور یہ واقعہ ہے کہ آپ سے خدا کا یہ آسمانی دین ہمیں قرآن وسنت ہی کی صورت میں ملا ہے۔ چنانچہ اب ہم اگر دین خداوندی کے آسمانی احکام کو اخذ کرسکتے ہیں تو محض انہی دو مآخذ سے کر سکتے ہیں۔

جہاں تک مذکورہ بالہ مسٔلے کا تعلق ہے تو قارئین کی خدمت میں عرض ہے کہ راقم الحروف نے اِس مسئلے پر باقاعدہ تحقیق کرکے عربی زبان میں ایک تفصیلی مقالہ ترتیب دیا ہے۔ افادۂ عام کے لیے اُسی مقالے کا خلاصہ یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

1۔ تحقیقی تجزیہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنے کی مشروعیت کے باب میں اسلامی شریعت کے مآخذ (قرآن وسنت) اور علم اسلامی کے دورِ اوّل کے تمام مراجع بالکل خاموش ہیں۔

2۔ علمی طریقے پر نبی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کا اپنی پوری زندگی میں اِس پر عمل ثابت ہوتا ہے،نہ مسلمانوں کے لیے اِسے دین میں آپ کی جانب سے مشروع کرنا ہی ثابت ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہی باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر واحد کے درجے میں بھی بایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔

3۔ عہد نبوی یا اُس کے بعد کے عہد میں آپ کے صحابہ رضی اللہ عنھم کے اِس اذان واقامت پر عمل کا بھی تاریخ،سیرت اور آثار میں کہیں کوئی سراغ نہیں ملتا۔ اور نہ اِس بات کا کہیں کوئی ثبوت موجود ہے کہ اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اِس عمل سے بعد کی نسلوں کو متعارف کرایا ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ علمِ اسلامی کے دور اوّل کے قدیم مراجع(تاریخ،سیرت،آثاراورفقہ)اِس اذان واقامت کے بیان اور تذکرے سے بالکل خاموش ہیں۔ یعنی اُن مآخذ میں اِس عمل کے عہد نبوی یا عہد صحابہ کے مسلم معاشروں میں پائے جانے کا کہیں کوئی تذکرہ اور ثبوت موجود نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے؛ چوتھی صدی تک کے فقہا میں سے کسی فقیہ نے دین میں اِس اذان واقامت کی مشروعیت کو کہیں بیان نہیں کیا۔

4۔ فقہاے متقدمین میں سے اِس مسئلے پر سب سے پہلے جس فقیہ کی راے فقہ اسلامی کے مراجع میں دریافت ہوئی ہے،وہ امام مالک رحمہ اللہ ہیں(المتوفی ۱۷۹ ھ )۔ اُنہوں نے نومولود کی اذان کی نہ صرف یہ کہ مشروعیت کو نہیں مانا،بلکہ اِسے ناپسند کیا ہے۔ (النوادر والزيادات علی ما فی المدونة من غيرها من الامهات،اشهب بن عبد العزيز القيسی المصری،4/337)امام مالک کے اِس قول کے بارے جو بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ نومولود کے کان میں اذان کے باب میں کوئی ناقابل اعتبار روایت کسی موقع پر اُن کے سامنے آئی یا پھر کسی شخص کو اُنہوں نے اِس پر عمل کرتے دیکھا تو اِس کے غیر مشروع ہونے کو بیان کردیا ہے۔ ورنہ یہ عمل اگر سنت کے درجے میں ثابت ہوتا تو اُس دور کے اہل مدینہ اِس پر ضرور عمل پیرا ہوتے اور امام صاحب اِسے اُن کے عمل سے جان لیتے۔ اُس صورت میں ظاہر ہے کہ اُن کے لیے اِس اذان کے انکار اور کراہت کی کوئی گنجایش باقی نہ رہ جاتی۔

5۔ عرب علماے عصر میں سے مندرجہ اصحاب علم ہیں جن کی رائے امام مالک ہی کی طرح نومولود کے کانوں میں اذان واقامت کی عدم مشروعیت کی ہے:

1شیخ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ .

2شیخ عبد المحسن بن حمد العباد حفظہ اللہ .

3شیخ عبد العزیز الطریفی حفظہ اللہ .

4شیخ ڈاکٹر عمر بن عبد اللہ المقبل حفظہ اللہ .

5شیخ عبد اللہ الحمادی حفظہ اللہ .

6شیخ حامد بن عبد اللہ العلی حفظہ اللہ .

7شیخ ڈاکٹر سلیمان العیسی حفظہ اللہ .

8شیخ ڈاکٹر خالد بن علی المشیقح حفظہ اللہ

ائمۂ اربعہ میں سے باقی ائمۂ ثلاثہ کی کتابیں نومولود کی اذان واقامت کے مسئلے سے بالکل خالی ہیں۔ اِس باب میں اُن سے کوئی براہ راست نص کہیں نقل نہیں ہوئی ہے۔

ائمۂ اربعہ کے شاگردوں سے بھی اِس حوالے سے کوئی نصوص مروی نہیں ہیں۔ اُن کی تمام کتب بھی اِس مسئلے سے کلیۃً خاموش ہیں۔

6۔ علم حدیث کے مراجع کے استقصا سے معلوم ہوتا ہے کہ محدثین میں امام ابو داود طیالسی (المتوفی: 204ھ) پہلے محدث ہیں جنہوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اِس مسئلے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایک فعلی روایت کو اپنی مسند میں جگہ دی ہے (مسند الطیالسی،رقم970)۔ لیکن یہ واقعہ ہے کہ علماے محقیقین کے نزدیک وہ سنداً ایک ضعیف (کمزور) روایت ہونے کی بنا پر نا قابل استدلال ہے۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ،ناصر الالبانی،494-493/1)

7۔ امام طیالسی کے بعد محدثین میں امام ابو یعلی الموصلی (المتوفی:307ھ) ہیں جنہوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اِس مسئلے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایک قولی روایت کو اپنی مسند میں نقل کیا ہے (مسند ابی یعلی،رقم6780)۔ لیکن یہ واقعہ ہے کہ محققینِ حدیث کی تحقیق کے مطابق وہ بھی سنداً ایک موضوع (من گھڑت) روایت ہونے کی بنا پر نا قابل اعتبار ہے۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ، ناصر الالبانی،رقم 321۔ مسند ابی یعلی بتحقیق الشیخ حسین اسد ،150/12)

8۔ غیر معمولی اہمیت کے حامل مندرجہ ذیل مراجعِ حدیث میں نومولود کی اذان واقامت کی کوئی ایک خبر واحد بھی کہیں نقل نہیں ہوئی ہے:

۱۔ مؤطا امام مالک

ب۔ مسند الشافعی

ج۔ صحیح بخاری

د۔ صحیح مسلمھ۔ سنن ابن ماجہ

و۔ سنن نَسائی

9۔ موضوعِ بحث مسئلے سے متعلق تمام مآخذِ حدیث کا استقصا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس باب کی مرفوع روایات کو اگر متفرق مصادر سے جمع کر لیا جائے تو کتبِ حدیث میں اُن کی کل تعداد چوبیس بنتی ہے۔ جو اپنے مضمون اور متن کے لحاظ سے کل سات روایات ہیں ؛ جن میں سے پانچ فعلی روایات،ایک قولی اور ایک روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل کا مجموعہ ہے۔ وہ متونِ حدیث یہ ہیں:

ا۔ ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فاطمہ کے ہاں جب حسن بن علی کی ولادت تو اُس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے حسن کے کان میں نماز والی اذان دیتے ہوئے دیکھا ہے۔

ب۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حسن بن علی کی پیدایش کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے دائین کان میں اذان اور بائیں مین اقامت کہی۔

ج۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فاطمہ کے ہاں جب حسین کی ولادت ہوئی تو اُس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اُن کے کان میں نماز والی اذان دیتے ہوئے دیکھا ہے۔

د۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حسن اور حسین کی بیدایش کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے کانوں میں اذان دی۔

ھ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ام الفضل بنت الحارث الہلالیہ سے فرمایا: جب تمہارے ہاں بچہ کی پیدایش ہوجائے تو اُسے میرے پاس لانا۔ (چنانچہ) ام الفضل کہتی ہیں کہ جب میرے ہاں بچے کی ولادت تو میں اُسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ پاس حاضر ہوئی۔ اُس موقع پر آپ نے اُس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی ، اُس کے منہ اپنا لعاب ڈالا اور اُس کا نام عبد اللہ رکھا۔

و۔ حضرت حسین بن علی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی اور اُس نے اُس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی تو "اُمُّ الصبیان" اُس بچے کو کوئی ضرر نہیں پہنچاسکے گی۔

(نوٹ: لفظ اُمُّ الصبیان کے مفہوم کی تعیین میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ اِس سے مراد وہ ہوا ہے جس سے بچے بالعموم بیمار ہوکر بے ہوش جایا کرتے تھے۔ بعض اہل علم بچوں کی کسی دوسری بیماری کو اس کا مصداق قرار دیتے ہیں ؛جبکہ بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ جن ہے کہ جس کے سایے کی گرفت میں بعض اوقات بچے آجاتے ہیں۔)

ز۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حسن اور حسین کی پیدایش کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے کانوں میں اذان دی اور اِس کا حکم فرمایا۔

10۔ رواۃِ صحابہ کے اعتبار سے اِس باب کی تمام روایتوں کا جائزہ لینے سے یہ بات بالبداہت واضح ہے کہ طبقۂ صحابہ میں سے محض تین صحابہ یعنی سیدنا عبد اللہ بن عباس ، حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہم ہی ہیں جن سے اصلاً یہ تمام روایات نقل ہوئی ہیں اور جن کے سوا باقی صحابہ کرام سے اِس باب میں کچھ نقل نہیں ہوا ہے۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ہے کہ علماے محدثین کی تحقیق کے مطابق یہ تمام کی تمام احادیث،ضعیف اور موضوع روایات کا مجموعہ ہیں۔ اِن میں سے کوئی ایک روایت بھی صحتِ سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ چنانچہ علماے محققین کے نزدیک اِن روایتوں کے ناقابل اعتبار ہونے کی بنا پر اِن سے نومولود کے کانوں میں اذان واقامت کا عمل اور اُس کی مشروعیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعاً ثابت نہیں ہوتی۔

11۔ مرفوع احادیث کے علاوہ موقوفات اور مقطوعات میں محض حضرت عمر بن عبد العزیز کا مندرجہ ذیل ایک اثر ہے جو اِس باب میں نقل ہوا ہے:

حضرت عمر بن عبد العزیز کے ہاں جب بھی کسی بچے کی ولادت ہوتی تو کپڑے میں لپٹے ہوئے بچے کو وہ اُسی حالت میں اُٹھالیتے اور پھر اُس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہتے اور اُسی موقع پر اُس کا نام رکھ دیتے تھے(مصنف عبد الرزاق،رقم 7985)۔

محققانہ نقطۂ نظر سے عمر بن عبد العزیز کا یہ اثر بھی اُن سے درجۂ ثبوت کو نہیں پہنچتا۔ کیونکہ سنداً یہ بھی ایک انتہائی ضعیف اور ناقابل اعتبار روایت ہے (تحفۃ المودود بتحقیقہ ، الشیخ حسان بن عبد المنان ، ص ۳۸)۔

(نوٹ: اوپر بیان کی گئی تمام روایتیں ، اُن کے اصل متون ، مراجع اور اسانید کا تفصیلی بیان راقم الحروف کے اصل مقالے میں درج ہے۔)

12۔ علم اسلامی کی تاریخ میں علماے حنفیہ میں سب سے پہلے فقیہ ملا علی قاری (المتوفی:1014ھ) ہیں جنہوں نے اپنی کتاب "مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح"(418/12) میں اِس اذان واقامت کی مشروعیت کو بیان کیا ہے ۔ میری تحقیق کے مطابق احناف میں اِن سے پہلے کسی بھی صاحب علم نے اِس عمل کی مشروعیت کو کہیں بیان نہیں کیا۔

مالکی فقہا میں سب سے پہلے محمد ابو القاسم العبدری (المتوفی:897ھ) ہیں جنہوں نے اپنی کتاب "التاج والاکلیل لمختصر خلیل" (257/3) میں اِس اذان کے مسنون ہونے کی رائے دی ہے۔

علماے شافعیہ میں سب سے پہلے جس فقیہ نے اِس اذان کے استحباب پر اپنی کتاب "المھذب فی فقہ الامام الشافعی" (241-242/1) میں کلام کیا ہے ، وہ ابو اسحٰق ابراہیم بن علی الشیرازی (المتوفی:476ھ) ہیں۔

حنبلی فقہا میں ابن قدامۃ المقدسی(620ھ) میرے استقصا کے مطابق پہلے فقیہ ہیں جنہوں نے اپنی کتاب "المغنی فی فقہ الامام احمد" (120/11) میں نومولود کی اذان واقامت کے استحباب پر کلام کیا ہے۔

13۔ فقہا میں سے جن اصحابِ علم نے نومولود کی اذان واقامت کو مشروع مانا ہے،اُن کے بارے میں مندرجہ ذیل تین باتیں قابلِ غور ہیں:

ایک یہ کہ وہ تمام کے تمام فقہا پانچویں صدی اور اُس کے بعد کے متاخرینِ فقہا ہیں۔ فقہاے متقدمین کی تمام کتب،جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا،اِس عمل کی مشروعیت کو بیان کرنے سے کلیۃً ساکت ہیں۔ جبکہ اُن میں سے امام مالک رحمہ اللہ نے تو اِس عمل کی مشروعیت کو قطعاً مانا ہی نہیں ہے۔

دوسرے یہ کہ تاریخی اعتبار سے اس رائے پر شوافع سب سے مقدم ہیں۔

تیسرے یہ کہ اِس عمل کی سُنیت اور استحباب کو ماننے والے متاخرینِ فقہا کے مابین بھی اِس مسئلے میں ایک پہلو سے بہر حال اختلاف پایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ بعض کے نزدیک نومولود کے صرف دائیں کان میں اذان کہنا مسنون ہے،اقامت کہنا مشروع نہیں ہے۔ جبکہ دوسرے اہل علم بائیں کان میں اقامت کہنے کو بھی مسنون قرار دیتے ہیں۔

چوتھے یہ کہ اِن تمام متاخرینِ فقہا نے اپنی آرا کے حق میں استدلال کے طور پر جو کچھ پیش کیا ہے وہ مذکورہ بالہ ضعیف اور موضوع روایات ہی ہیں ؛ جن سے اوپر بیان کی گئ تحقیق کے مطابق بالبداہت واضح ہے کہ عبادت کی نوعیت کا اِس طرح کا کوئی دینی عمل ثابت ہی نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ ہے کہ اِن ناقابل اعتبار روایات کے سوا نومولود کے کان میں اذان واقامت کے اثبات کے لیے اُن کے پاس کوئی دوسری دلیل موجود نہیں ہے۔

پانچویں یہ کہ نومولود کے کانوں میں اذان واقامت کے استحباب کو ماننے والے اصحاب علم میں سے بعض نے اپنی کتابوں میں اِس اذان واقامت کی حکمت پر بھی کلام کیا ہے۔ اِس حوالے سے یہ بات واضح رہے کہ اِس عمل کی حکمت کی تعیین میں جو آرا بھی پیش کی گئی ہیں ، وہ کسی نص شرعی پر مبنی نہیں،بلکہ یہ بعض علما کے اپنے فہم واجتہاد کا بیان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعیینِ حکمت کے معاملے میں بھی اہل علم کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہاں میں صرف یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مآخذِ دین میں جس عمل کی مشروعیت ہی اصلاً ثابت نہیں ہے،غور وتدبر کر کے اُس کی حکمت کو دریافت کرنے اور اُسے بیان کرنے کی ظاہر ہے کہ کوئی ضرورت اور اہمیت باقی نہیں رہ جاتی۔

خاتمۂ بحث

مسئلۂ زیر بحث سے متعلق مذکورہ بالہ تمام تحقیقی معلومات کو پیش نظر رکھ کر اِس کے مندرجہ ذیل تین اُصولی پہلؤوں کو اگر دقتِ نظر کے ساتھ سمجھ لیا جائے تو اِس کے بارے میں صحیح،محقق اور حتمی رائے تک پہنچنے میں بڑی مدد ملتی ہے:

۱۔ نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنے کا یہ عمل ظاہر ہے کہ اذکار میں سے ایک ذکر ہونے کی بنا پر قولی عبادت کی نوعیت کا ایک عمل ہے۔ اور عبادات کے باب میں یہ اُصول متعین ہے کہ اِس کا تعلق چونکہ خدا اور بندے کے باہمی معاملات سے ہے۔ اِس وجہ سے عبادات اور اُن کے اعمال کی تعیین بندوں کے لیے خود خدا کی جانب سے اُس کے پیغمبروں ہی کی وساطت سے کی جاتی ہے۔ بندوں کے عقل فہم کا اِس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ چنانچہ کسی بھی عمل کو منجملہ قولی یا فعلی عبادات سمجھنا اُس وقت تک قطعاً درست نہیں ہے جب تک کہ دین خداوندی کے اصل مآخذ(قرآن وسنت)میں اُس کی کوئی واضح دلیل موجود نہ ہو۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ عبادات کا باب محض بیانِ شریعت پر موقوف ہے؛انسانی عقل وفہم،عرف وعادات،خواب،مکاشفوں،علاقائی اور قبائلی رسوم ورواج سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔عبادات کی معرفت محض شارع کی تشریع پر مبنی ہے۔ چنانچہ جس عمل کو اسلامی شریعت میں عبادت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے،محض وہی عمل عبادت قرار پائے گا۔ اور جس عمل کو یہ حیثیت حاصل نہیں ہے،اسے منجلہ عبادات سمجھنا بھی قطعاً درست نہیں ہے۔

اب جہاں تک نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں اقامت کہنے کا تعلق ہے تو باوجود اِس کے کہ اپنی ذات کے اعتبار سے یہ عبادت کی نوعیت ہی کا ایک عمل ہے،لیکن اپنے ماخذ کے اعتبار سے اسے کسی طرح حکم شرعی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سوائے بعض ضعیف اور موضوع روایات کے،اسلامی شریعت کے اصل مآخذ یعنی قرآن وسنت میں کوئی ایسی دلیلِ صحیح موجود نہیں ہے کہ جس کی بنا پر دین اسلام میں اِس کی مشروعیت کو مانا جاسکے۔

۲۔ اذان واقامت کا یہ عمل اپنے اندر عبادت کی نوعیت رکھنے کے علاوہ اپنی ذات میں ایک مستقل عمل بھی ہے۔ یعنی یہ اسلامی شریعت کی کسی مستقل بالذات اور ثابت شدہ سنت کے تابع یا اُس کا کوئی تطوع عمل نہیں ہے کہ اِسے چند صحابہ کی روایت سے اخذ کرلیا جائے ؛ دراں حالیکہ اِس باب کی روایات خود غیر ثابت ہیں۔ کوئی عبادت اگر کسی مستقل بالذات سنت کی فرع یا اُس کا کوئی تطوع عمل ہو تو ایسے اعمال کو بلاشبہ ہم اخبار آحاد سے بھی اخذ کرسکتے ہیں،بشرطیکہ وہ سنداً "صحیح" ہوں۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کے لیے پانچ وقت کی لازمی نمازیں اسلامی شریعت میں مستقل سنت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کی روایت بھی مسلمانوں نے مستقل بالذات احکامِ شریعت کی طرح ہی کی ہے۔ جبکہ اِس سنت پر آپ نے جو عمل بطور تطوع کیا ہے؛یعنی لازمی رکعتوں کے علاوہ اِن سے پہلے یا بعد میں کچھ رکعتیں بطور تطوع بھی ادا کی ہیں ؛ تو اُن نفل نمازوں کو اصل عبادت ہی کی فرع اور اُس کے تطوع کی حیثیت سے ہم اخبار آحاد سے بھی اخذ کرلیتے ہیں۔ تاہم،مستقل نوعیت کے اعمالِ عبادت چونکہ آسمانی شریعت کا حصہ ہوتے اور اُن کا حکم تمام مسلمانوں کے لیے عمومی ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ اِسی حیثیت سے شارع اپنے ماننے والوں کے لیے اُن کی تشریع کرتے ہیں۔ محض چند افراد کی روایت پر اُن کا انحصار نہیں ہوا کرتا۔ اسلامی شریعت میں اُن کے ثبوت کے لیے یہ لازم ہے کہ شارع اپنے ماننے والوں کے لیے اُنہیں عمومی حیثیت سے مشروع اور سنت کے طور پر جاری فرمائیں۔ اور پھر مسلمانوں کا ہر طبقہ اُسے نسلاً بعد نسل آگے منتقل کرے۔ جیساکہ مثال کے طور پر مستقل بالذات اسلامی سنن میں عیدین اور اُن کی نمازیں ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی طرح شریعت میں مقرر فرمایا اور پھر آپ کے صحابہ اور بعد کے مسلمانوں نے اُنہیں نسلاً بعد نسل دنیا کو منتقل کیا۔ ہمارے نزدیک اِس طرح کے مستقل بالذات احکامِ شریعت محض اخبار آحاد (چند افراد کی روایت) کی بنیاد پر ثابت نہیں ہوتے،اگرچہ وہ روایات سندًا "صحیح" ہی کیوں نہ ہوں۔

نومولود کی اذان واقامت کو اِس ضابطے کے تحت رکھ کر دیکھیں تب بھی وہ دین میں ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ مستقل بالذات عمل ہونے کے باوجود اِِس کے اثبات کے لیے سوائے چند اخبار آحاد کے مسلمانوں کے پاس کوئی دوسری دلیل موجود نہیں ہے۔ اور پھر واقعہ یہ ہے کہ وہ روایتیں بھی اِس درجے کی ہیں کہ جن کی بنیاد پر اِس عمل کا استناد کسی طرح بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درجۂ ثبوت کو نہیں پہنچتا۔

۳۔ نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنے کے اِس عمل کا تیسرا اور آخری قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اگر دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو " عموم بلویٰ " کی نوعیت کے اعمال میں سے بھی ہے۔ یعنی یہ ایک ایسا عمل ہے کہ جس سے کم وبیش ہر مسلمان اور ہر گھرانے کو سابقہ پیش آتا ہے۔ کیونکہ بچوں کی ولادت تو فطری طور پر ہر گھر،ہر خاندان،ہر علاقے اور ہر زمانے میں شب وروز ہوا ہی کرتی ہے۔ چنانچہ یہ اگر اسلامی شریعت کی مستقل بالذات سنن میں سے ایک سنت تھی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو براہ راست ماننے والے مسلمانوں کی یہ لامحالہ تھی کہ وہ سب عمومی طور پر اس واقف ہوں تاکہ وہ اِس پر عمل کرسکیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعتاً اگر اِس عمل کو دین اسلام میں مشروع اور جاری فرماتے تو تمام مسلمانوں کے لیے اِسے ضرور عمومی حیثیت سے بیان کرتے۔ پھر عامۃ المسلمین لامحالہ سنت کی حیثیت سے اِسے جانتے اور اپنے ہاں بچوں کی ولادت کے موقعوں پر اس پر عمل پیرا ہوتے۔ اور اگلی نسلوں کو بھی یہ عمل اسی طرح منتقل کردیتے۔ " عموم بلویٰ " کی نوعیت کے اعمال واحکام اصلاً اسی طرح منتقل ہوتے ہیں۔ اسلامی شریعت میں سنت کی حیثیت سے اُن کا ثبوت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کر کے مسلمان نسلاً بعد نسل اُنہیں بالاتفاق منتقل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے احکام ہمارے نزدیک محض اخبار آحاد (چند افراد کی روایت) کی بنیاد پر ثابت نہیں ہوتے ، اگرچہ وہ روایات سندًا صحیح ہی کیوں نہ ہوں۔ نومولود کی اذان واقامت کو اِس قاعدے کے تحت رکھ کر دیکھیں تب بھی وہ دین میں قطعاً ثابت نہیں ہوتی۔

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنے کا عمل سنت نہیں بلکہ ایک غیر مشروع عمل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے مشروع کیا ہے،نہ سنت کے طور پر جاری ہی فرمایا ہے؛اور نہ آپ سے اِس کی روایت ہم تک کسی قابلِ اعتماد ذریعہ سے ہوئی ہے۔ ائمۂ فقہا میں سے یہی رائے امام مالک کی ہے۔ علماے معاصرین میں بھی کئی محقیقین کا فتوی اِسی رائے پر ہے۔ میری تحقیق کے مطابق مسلمانوں میں اِس عمل کی پیدایش بعد کے دور میں اِس سے متعلق بعض ناقابل اعتبار روایتوں کے ظھور میں آنے کے بعد ہی ہوئی ہے۔ پھر اُس دور کے بعض فقہا نے جب اپنے فہم کے مطابق اُن روایتوں کو قبول کرکے نومولود کی اذان واقامت کو ایک مستحب اور مشروع عمل قرار دیا؛اُس کے بعد ہی مسلمانوں میں اِس کا شیوع ہوا ہے۔ اِس سے پہلے مسلمان معاشروں میں اِس عمل کا کوئی ثبوت کہیں نہیں ملتا۔ چنانچہ عبادت کی نوعیت کے اِس عمل کے بارے میں محقق رائے یہی ہے کہ اسے منجملہ بدعات شمار کیا جائے۔

answered by: Muhammad Amir Gazdar

About the Author

Muhammad Amir Gazdar


Dr Muhammad Amir Gazdar was born on 26th May 1974 in Karachi, Pakistan. Besides his studies at school, he learned the science of Tajweed Al-Qur’an from a renowned Qu’anic reciter, Qari Khalil Ahmad Bandhani and completed the memorization of the Qur’an in 1987 at Madrasah Tajweed al-Qur’an, Karachi.

He obtained his elementary religious education from Jami’ah Dar al-Hanafiyyah, Karachi. He graduated from Jami’ah al-Uloom al-Islamiyyah, Binnori Town, Karachi and obtained Shahadah Aalamiyyah in 1996 and received an equivalent certificate of Masters in Islamic Studies from the Karachi University.

During the year 1997 and 1998, he served in Jami’ah Binnori Town as a Tafseer and Tajweed teacher and also taught at Danish Sara Karachi (A Former Dawah Centre of Al-Mawrid Foundation).
In 1992, Dr Gazdar was introduced to Farahi school of thought when first time met with Ustaz Javed Ahmad Ghamidi (a renowned Islamic scholar) and had the chance to learn Islam from him and tried to solve many controversial issues of Hadith, Fiqh and Usool under his supervision.

In January 1999, he started another Masters programme in Islamic Sciences offered by Al-Mawrid foundation in Lahore and he completed it with top position in the batch in August 2001.
Mr Gazdar officially joined Al-Mawrid foundation as an associate fellow in research and education in 2002 and worked in this capacity until December 2018. He worked for the Karachi center of Al-Mawrid for about 10 years as a teacher, lecturer and researcher. He taught various courses, delivered weekly lectures, conducted workshops on different topics, taught in online classes, answered questions of the participants verbally and wrote many answers for foundation’s official website too.

In September 2012, he moved to Kuala Lumpur Malaysia to participate in another Masters programme in Islamic Revealed Knowledge and Heritage at International Islamic University Malaysia (IIUM). In January 2015, he completed his 3rd Masters in Qur’an and Sunnah department of the university with the GPA: 3.92.

Dr Amir started his Ph.D programme in the Qur’an and Sunnah department of International Islamic University Malaysia (IIUM) in February 2015 and completed it with distinction on 25th March 2019. His Ph.D research topic was a comparative study of contemporary scholars’ view on the issue of Hijab and Gender Interaction in the light of Quranic and Hadith texts.

In December 2018, he has been appointed at Al-Mawrid Foundation as Fellow of research and education.

Dr Gazdar has many academic works to his credit. He has written a few booklets published in Urdu language and has authored several articles which have been published in various research journals in Malaysia, India and Pakistan (Arabic language). His two research books have been in Malaysia and Lebanon in 2019 (Arabic language).

Furthermore, he is actively working in the Hadith project of Ustaz Javed Ahmad Ghamidi and playing a significant role in it as a researcher and writer since January 2016.

Moreover, Dr Gazdar has been leading in Qiyam-e-Ramadhan and Tarawih prayer since 1989 in various mosques and at Sada Bahar Lawn (2002-2011) in Karachi, Pakistan. He worked as a part time Imam at Sultan Haji Ahmad Shah mosque of International Islamic University Malaysia (IIUM) from 2013 to 2016 where he lead in Tarawih and Qiyam-e-Ramadhan for four years. Other than this, he has served for several mosques in Kuala Lumpur as a volunteer Imam for Tarawih and Qiyam-e-Ramadhan.

Answered by this author