اولاد سے متعلق ایک سوال

سوال:

میری بیوی نے مجھ سے علیحدگی کر لی ہے۔ بچے اس کے پاس ہیں میں اپنے بچے لینا چاہتا ہوں۔ میرے دو بیٹے ہیں ایک کی عمر نو سال اور دوسرے کی چھ سال ہے۔ کیا شریعت کی رو سے میں بچے لے سکتا ہوں۔


جواب:

قرآن مجید میں یہ مسئلہ زیر بحث نہیں آیا۔ اسی طرح حدیث میں بھی اس کے لیےکوئی شرعی حکم بیان نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے کو لوگوں کی سہولت اور مصلحت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ شرعا بچوں کو رکھنے اور پالنے کا حق دونوں یکساں رکھتے ہیں۔ میرے علم کی حد تک ہماری عدالتیں بھی بچے کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ماں یا باپ کے حق میں فیصلہ کرتی ہیں۔ آپ کو بھی عدالت میں جانا چاہیے اور وہاں سے فیصلہ لینا چاہیے۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ ہمارے وکیل حضرات جھوٹے بیانات سے اس طرح کے مسائل حل کرواتے ہیں۔ آپ کو اس طرح کی کسی خلاف شرع حرکت سے بچتے ہوئے یہ کام کرنا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ برادری کے ذریعے سے اس مسئلے کو حل کریں اور یہ بات یاد رکھیں کہ جس طرح باپ ہونے کی حیثیت سے آپ کا بچوں پر حق ہے اسی طرح ماں ہونے کی حیثیت اس کا بھی اتنا ہی حق ہے۔ آپ کو کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جس سے کسی کے حق کی نفی ہو جائے۔ قرآن مجید اس طرح کے معاملات میں مردوں سے زیادہ فراخی اور درگزر کا تقاضا کرتا ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author